” اس طرح کے میچز کی وجہ سے ۔۔۔ “ پاکستانی ٹیم کے سابق اوپنر عمران نذیر نے پاکستان ویسٹ انڈیز سیریز پر ایسی بات کہہ دی کہ جان کر ہر پاکستانی ان کی ہاں میں ہاں ملائے گا

لاہور :  پاکستان کی پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ویسٹ انڈیز کے خلاف 143 اور دوسرے میچ میں 82 رنز کی یکطرفہ فتح پر سابق اوپنر عمران نذیر نے اسے ٹیم کی کارکردگی کیلئے بہترین قرار دیا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ میچز سے شائقین مطمئن نہیں ہوتے۔

پاکستان نے پہلے ٹی ٹوئنٹی میچ میں ویسٹ انڈین ٹیم کو 204 رنز کے ہدف کے تعاقب میں صرف 60 رنز پر ڈھیر کردیا تھا جو کہ پاکستان کی جانب سے رنز کے اعتبار سے سب سے بڑی فتح تھی ۔ عمران نذیر نے اس فتح کو ٹیم کی کارکردگی کیلئے اچھا قرار دیا ہے لیکن انہوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا ہے کہ اس طرح کے یکطرفہ میچز سے تماشائیوں میں مایوسی پھیلتی ہے۔ ’ اس فتح کے بعد پاکستان نے ٹی ٹوئنٹی کرکٹ میں پہلی پوزیشن پر قبضہ مزید مضبوط تو کرلیا ہے لیکن مداحوں کو مایوس بھی کیا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ ٹی ٹوئنٹی کرکٹ بہت ہی پرجوش کھیل ہے کیونکہ اس میں مسابقت کی فضا بہت زیادہ ہوتی ہے اور کسی ایک ٹیم کے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ہوتا بلکہ دونوں ٹیموں کے کھلاڑی چھکے چوکے لگاتے ہیں ۔ عمران نذیر کا کہنا تھا کہ پی ایس ایل فائنل میں نیشنل سٹیڈیم کھچا کھچ بھرا ہوا تھا لیکن ویسٹ انڈیز کے خلاف سیریز کے دوران سٹیڈیم خالی نظر آتا ہے، اس کی بنیادی وجہ یہی ہے کہ جب یکطرفہ مقابلہ ہوا تو تماشائیوں نے پاکستان کے جیتنے کے باوجود گراﺅنڈ سے نکلنے کو ترجیح دی۔

انہوں نے کہا کہ تماشائیوں کو تفریح چاہیے ہوتی ہے اور یہ اسی صورت ممکن ہوسکتا ہے جب دونوں ٹیموں کی جانب سے بہترین کھیل پیش کیا جائے ، یہ چیز پی ایس ایل میں بھرپور طریقے سے نظر آئی کیونکہ اس کا ہر میچ ہی آخری لمحات تک کھیلا گیا اور یہی وہ چیز ہے جو تماشائی کو گراﺅنڈ میں کھینچ کر لاتی ہے۔

عمران نذیر نے ویسٹ انڈین ٹیم کی خراب کارکردگی کی وجہ کھلاڑیوں کو آرام نہ ملنے کو قرار دیا اور کہا کہ کالی آندھی نے پہلا ٹی ٹوئنٹی کراچی پہنچنے کے چند ہی گھنٹوں بعد کھیلا ، جب کوئی بھی جہاز کا سفر کرتا ہے تو اسے تھکاوٹ ہونا معمول کی بات ہے لیکن ویسٹ انڈین کھلاڑیوں کو آرام نہیں ملا جس کا اثر ان کی کارکردگی پر بھی پڑا۔

Comments

comments

Leave a Comment