انضمام الحق کا اپنے بیٹے کو ٹیم میں شامل کروانے کے لئے دباؤ ڈالنے کا انکشاف بھانجے کے بعد اپنے بیٹے کو بھی قومی ٹیم میں لانے کی تیاری کرلی

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ(( پی سی بی)) کے چیف سلیکٹر انضمام الحق تنازعات کی زد میں آگئے۔چیف سلیکٹرانضمام الحق کے حوالے سے اطلاعات گردش میں ہیں کہ انہوں نے جونیئر سلیکشن کمیٹی کے سربراہ اور سابق ٹیسٹ کرکٹر باسط علی کو فون کرکے کہا کہ آپ نے میرے بیٹے ابتسام الحق کو انڈر 19 ٹیم میں شامل نہیں کیا۔ ذرائع کے مطابق باسط علی نے یہ بات سابق ٹیسٹ کرکٹر عبدالقادر نے بتاتے ہوئے اس کی صداقت پر بھی اصرار کیا ہے۔

دوسری جانب انضمام الحق نے اس الزام کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ کسی نے بھی جونیئر سلیکشن کمیٹی سے رابطہ نہیں کیا، الزام میرے لئے باعث تشویش ہے اور اس معاملے کو چیئرمین پی سی بی کے پاس لے کر جارہا ہوں۔یاد رہے کہ انضمام الحق کو پی ایس ایل کی پلیئرز کیٹیگری کمیٹی سے پہلے ہی فارغ کیا جاچکا ہے۔ یاد رہے کہ پی سی بی نے اس سے قبل مفادات کے ٹکراﺅکا جواز دے کر پی ایس ایل پلیئرز کیٹیگری کمیٹی سے باہر کر دیا۔

پی ایس ایل ڈرافٹ سے قبل کھلاڑیوں کی کیٹیگری کا تعین کیا جاتا ہے، ماضی میں چیف سلیکٹر انضمام الحق یہ فریضہ انجام دیتے تھے،ذرائع کے مطابق اس بار بعض فرنچائزز نے اعتراض اٹھایا کہ چیف سلیکٹر چونکہ لاہور قلندرز کے ٹیلنٹ ہنٹ پروگرام میں شریک رہے، اس سے مفادات کا ٹکرائو ہوتا ہے ،لہذا ان کو پروسس سے الگ رکھا جائے، پی سی بی نے اس اعتراض کو تسلیم کرتے ہوئے انضمام کو کمیٹی سے باہر کر دیا۔

پی سی بی کے اس اقدام سے واضح ہوگیا کہ حکام نے قومی کرکٹ ٹیم کا انتخاب کرنے والے خود اپنے چیف سلیکٹر کی دیانتداری پر شک کیا، جس سے انکی ساکھ پر سوال اٹھنے لگے ہیں،اس بار اختیار کردہ طریقہ کار کے تحت فرنچائزز مجوزہ کیٹیگریز لیگ منتظمین کے ساتھ شیئر کریں گے۔اسکے بعد قومی سلیکٹرز وسیم حیدر اور وجاہت اللہ واسطی سمیت پی ایس ایل ہیڈ آف پلیئرز ایکویزیشن عمران احمد خان اس کا جائزہ لے کر پی ایس ایل تھری ڈرافٹ میںشرکت کرنے والے کھلاڑیوں کی نئی کیٹیگریز کو حتمی شکل دیں گے، مقامی کھلاڑیوں کی ازسرنو تشکیل دی جانے والی کیٹیگریز کے بعد غیرملکیوں کی حتمی فہرست اور باقی بچ جانے والے دیگر تمام مقامی کرکٹرز کی کیٹیگریز میں سے ٹیموں کا انتخاب ہوگا۔

Comments

comments

Leave a Comment