ایشیاء کپ کھیلنا اتنا آسان نہیں۔۔۔ کامیابی کے لئے کھلاڑیوں کو کیا کرنا ہوگا،کوچ مکی آرتھر نے دو ٹوک بتا دیا

لاہور: قومی کرکٹ ٹیم کے ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے ایشیاءکپ سے قبل کھلاڑیوں کو ایک مرتبہ پھر اچھی کارکردگی کے لیے وارننگ جاری کر دی۔ ان کا کہنا تھا کہ صرف وہی کھلاڑی اسکواڈ کا حصہ ہو سکتے ہیں جن کی فیلڈنگ اچھی ہو گی۔ گزشتہ روز انٹرویو میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ فیلڈنگ کا جو بلند معیار طے کیاگیا ہے ، مستقبل میں بھی اسے قائم رکھا جائے گا۔

پاکستان کرکٹ کو وہ کلچر دینا چاہتے ہیں جس پر بطور کوچ ان کی رخصتی کے بعد بھی عمل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیم کی بہتری کے لیے سخت پالیسی اپنانے کی ضرورت ہے تاہم کھلاڑیوں کی کارکردگی میدان پر ہی جانچی جا سکتی ہے۔مکی آرتھر کے مطابق گزشتہ دو سال میں پاکستانی ٹیم کا فیلڈنگ معیار کافی بہتر ہوگیا اور کوچنگ اور سپورٹ سٹاف کے کردار کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ بیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور اور با ﺅ لنگ کوچ ا ظہر محمود اور دیگر کوچنگ سٹاف کی جانب سے جو معیار سیٹ کیا گیا ہے ، وہ مزید دو سال تک برقرار رہے گا۔ مکی آرتھر نے کہا کہ وہ ایک ایسا انقلابی نظام بنا کر پاکستان کرکٹ کو چھوڑنا چاہتے ہیں جس کی لوگ مثالیں دیں۔ ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ وہ گرین شرٹس کے اب تک کے نتائج سے بہت مطمئن ہیں۔

قومی ٹیم اس وقت ٹی ٹونٹی فارمیٹ میں نمبر ون ہے۔ جب بطور کوچ چارج سنبھالا تھا، اس وقت فیلڈنگ انتہائی خراب تھی اور اس کی ایک وجہ کھلاڑیوں کی ناقص فٹنس بھی بنی۔ یاد رہے کہ 2016ءمیں مکی آرتھر کے پاکستانی ٹیم کی کوچنگ سنبھالنے کے بعد گرین شرٹس کی فٹنس میں کافی بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور اس کا واضح ثبوت تب ملا جب سرفراز الیون نے گزشتہ سال چیمپئنز ٹرافی کا ٹائٹل اپنے نام کیا ،،پاکستان اس وقت ون ڈے رینکنگ میں5ویں نمبر پر موجود ہے جب کہ ٹی ٹونٹی رینکنگ میں اس کی بادشاہی قائم ہے ۔

Comments

comments

Leave a Comment