ایک اور انٹرنیشنل ٹیم پاکستان آنے کے لئے راضی۔پی سی بی کی ہاں کا انتظار

لاہور : آئر لینڈ کرکٹ بورڈ نے پاکستان میں مکمل کرکٹ سیریز کھیلنے کے بے قرار ہے۔ بورڈ چیف ایگزیکٹیو کو پی سی بی کی جانب سے دعوت کا انتظار ہے۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق چیف ایگزیکٹو وارن ڈیو ٹروم نے پاکستان ٹیم بھیجنے کی حامی بھرلی ہے،ٹیم دورے میں ٹیسٹ،ون ڈے اور ٹی 20 سیریز کھیلے گی۔ملاہائیڈ میں اولین ٹیسٹ میچ کے بعد غیر ملکی میڈیا سے بات چیت میں انہوں نے دعوت نامے سے ہی قبل نیم رضامندی ظاہر کردی ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر ستاروں کی چال درست رہی تو کوئی وجہ نہیں کہ ہم پاکستان سیریز کھیلنے نہ جائیں۔

ہمارا بورڈ دورہ پاکستان کے لئے مکمل طور پر تیار ہے، تاہم تمام آئرش کرکٹ سٹارز سے مشاورت کی جائے گی، اور اگر وہ تیار ہوئے تو پاکستان جانے میں کوئی رکاوٹ نہیں ہوگی، انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی سے ٹیسٹ میچ کے دوران غیر رسمی گفتگو ہوئی ہے، انہوں نے آفیشل طور پر دعوت ابھی تک نہیں دی مگرہم نے ان کو واضح کہہ دیا ہے کہ جس وقت وہ سکیورٹی معاملات کلیئر دیکھیں، تو ہمیں دعوت دیں ،ہم ضرور کھیلنے جائیں گے۔
یاد رہے کہ پاکستان کرکٹ بورڈ نے 2020 ءمیں آئرلینڈ ٹیم کو پاکستان کے دورے کے لئے پلان بنالیا ہے۔ یاد رہے کہ آئرلینڈ نے 2014ءمیں بھی پاکستان آنے کی حامی بھر لی تھی لیکن کراچی ایئرپورٹ پر دہشت گردوں کے حملے کی وجہ سے اپنا ارادہ بدل لیا، مئی 2015ءمیں زمبابوے کی ٹیم ملک میں انٹر نیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے بارش کا پہلا قطرہ ثابت ہوئی جس کے بعد امن وامان کی بہتر صورتحال میں پی ایس ایل میچز، سری لنکا اور ویسٹ انڈیز کی میزبانی کے بعد پی سی بی نے اب آئرلینڈ کو بلاکر انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے مزید پیش رفت کرنے پر نگاہیں مرکوز کرلی ہیں۔

نجم سیٹھی آئی سی سی ٹاسک فورس برائے پاکستان کے سربراہ جائلز کلارک سے ملاقات کرینگے جب کہ ثالثی کمیٹی میں بھارت کیخلاف ہرجانہ کیس پر وکلاءسے مشاورت بھی ہو گی، چیئرمین پی سی بی انگلینڈ میں سرفراز احمد اور ہیڈ کوچ مکی آرتھر سے ملاقات بھی کریں گے۔یاد رہے کہ چیف سلیکٹر انضمام الحق سرکاری دورے پر انگلینڈ پہنچ چکے ہیں حالانکہ تینوں ٹیسٹ میچز کے لیے سکواڈ پہلے ہی منتخب کیا جاچکا ہے اور اس کے بعد سکاٹ لینڈ کیخلاف ٹی ٹونٹی سیریز ہونی ہے جس میں ابھی کافی وقت باقی ہے ،سابق کپتان کے دورے کا مقصد واضح نہیں ہوسکا ہے ۔

Comments

comments

Leave a Comment