بابر اعظم کوہلی کی کس خوبی کو اپنانے کی کوشش کرتے ہیں !بیٹنگ کرتے ہوئے کیا پلانز ہوتے ہیں!انٹرویو میں سب بتا دیا

پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان ٹی ٹؤنٹی سیریز کا اختتام ہو چُکا ہےجس میں پاکستان نے کلین سویپ فتح حاصل کر کے کئی ورلڈ ریکارڈز اپنے نام کر لئے ہیں.

اس میچ کے دوران ایک بڑا ورلڈ ریکارڈ جو بابر اعظم نے بنایا وہ ٹی ٹؤنٹی کرکٹ میں تیز ترین 1000 رنز بنانے کا ہے جو انہوں نے اپنے 26ویں میچ میں مُکمل کر کے ویرات کوہلی کا ریکارڈ توڑ دیا ہے.جنہوں نے 27 اننگز میں یہ کارنامہ سرانجام دیا تھا.

بابر اعظم نے آج کے میچ میں 79 رنز کی شاندار اننگز بھی کھیلی جس پر انہیں مین آف دی میچ کا ایوارڈ بھی دیا گیا

میچ کے بعد انٹرویو میں بابر اعظم کا کہنا تھا کہ میں جس باؤلر کو ذرا کمزور سمجھتا ہوں اُس پر میری پوری کوشش ہوتی ہے کہ اٹیک کروں.اور جب ایک اچھا باؤلر آجاتا ہے تو بجائے اس کے کہ میں ڈاٹ بالز کھیلوں میں کوشش کرتا ہوں کہ سنگل لے لوں.اور صرف اُس وقت کا انتظار کروں جب وہ خود ہی کمزور بال دے کر مُجھے بڑی شارٹ کھیلنے کا موقع دے.

انکا کہنا تھا کہ میں باؤلر کی طرف سے لگائی گئی فیلڈنگ کو غور سے دیکھتا ہوں اور اُس کے بعد جو باؤلر کے ذہن میں چل رہا ہوتا ہے میں اُسک اُلٹ شارٹس کھیل کر رنز بناتا ہوں.

ویرات کوہلی جیسا بلے باز ہونے کے سوال پر بابر اعظم نے کہا کہ دُنیا کا کون سا بلے باز ہو گا جو کوہلی جیسا بننے کی کوشش نہیں کرے گا یا خواہش نہیں رکھے گا.

انکا کہنا تھا کہ ویرات کوہلی کے پاس ہر وہ چیز ہے جو کسی بھی کرکٹر کو 100 فیصد مُکمل بلے باز بننے کے لئے درکار ہوتی ہے

بابر اعظم کا کہنا تھا کہ اصل چیز یہ نہیں کہ وہ کتنی سنچریز اسکور کر رہے ہیں یا کتنی اور کر پاتے ہیں.لیکن مُجھے اُن میں جو بات سب سے اچھی لگتی ہے وہ یہ ہے کہ کوہلی جب بھی بیٹنگ کرنے آتے ہیں وہ یہ سوچ کر ہی کھیلتے ہیں کہ میں ایک اور سنچری کرنے جا رہا ہوں.اور میں بھی اسی چیز کو اپنانے کی کوشش کرتا ہوں.

یاد رہے کہ اس سے پہلے بھی کئی دفعہ کئی کرکٹ ماہرین بابر اعظم کو کوہلی جیسا بلے باز قرار دے چُکے ہیں لیکن بابر اعظم ابھی تک یہ بات ماننے کو تیار نہیں ہیں.

بابر اعظم ٹی ٹؤنٹی اور ون ڈے میچز میں تو کسی حد تک ویرات کوہلی جیسا کھیل رہے ہیں اور ریکارڈز میں بھی کوہلی کے قریب ہی ہیں لیکن ٹیسٹ میچز میں اب تک نوجوان بلے باز مُکمل طور پر ناکام دکھائی دیتے ہیں.

ٹیسٹ میچز میں انکے بارے میں مشہور ہے کہ یہ لنچ یا چائے کے وقفے سے ایک اوور پہلے یا ایک اوور بعد میں آؤٹ ہونے کی عادت بنا چُکے ہیں .اور کئی بار ان کے ساتھ ایسا ہوا بھی ہے.لیکن پھر بھی پاکستان ٹیم انتظامیہ انکے ٹیلنٹ کو دیکھتے ہوئے انہیں ٹیسٹ میں بھی لگاتار موقع دے رہی ہے.اور ابھی نیوزی لینڈ کے خلاف بھی ٹیم کا حصہ ہوں گے.

.

Comments

comments

Leave a Comment