بگڑے بچے سدھر نہ سکے! قومی بلے باز عمر اکمل اور احمد شہزاد کو انتہائی بری خبر سنا دی گئی

لاہور: پاکستان کرکٹ بورڈ ((پی سی بی )کھلاڑیوں کے سینٹرل کنٹریکٹ کو حتمی شکل دینے کے لیے فیصلہ کن میٹنگ بدھ کو لاہور میں کرے گا ، کپتان سرفراز احمد کو خاص طور پر لاہور مدعو کیا گیا ہے۔ کرکٹ بورڈ 30 سے35 کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دینا چاہتا ہے اور مشاورت مکمل ہونے کے بعد اگلے چند روز میں ایک سال کے لیے نئے سینٹرل کنٹریکٹ کا اعلان کردیا جائے گا۔

سینٹرل کنٹریکٹ کےلئے تشکیل دی گئی کمیٹی میں چیف سلیکٹر انضمام الحق اور ڈائریکٹر کرکٹ ہارون رشید شامل ہیں۔ کمیٹی نے ہیڈ کوچ مکی آرتھر سے مشاورت مکمل کر لی ہے اور اب سرفراز احمد سے رائے لینے کے بعد فہرست کو حتمی شکل دیدی جائےگی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ اوپنر احمد شہزاد اور عمر اکمل سینٹرل کنٹریکٹ کی فہرست میں جگہ بنانے میں ناکام رہے ہیں جبکہ رومان رئیس اور عماد وسیم کی سینٹرل کنٹریکٹ میں شمولیت فٹنس سے مشروط کی جائے گی، سینئر کھلاڑی محمد حفیظ او روہاب ریاض کی بھی تنزلی ہوجائے گی۔

بابراعظم، امام الحق، فخر زمان، حسن علی، شاداب خان اور فہیم اشرف کو ترقی ملنے کا امکان ہے۔ یکم اگست سے پاکستان کرکٹ بورڈ اپنے ملازمین کی بھی تنخواہوں میں اضافہ کررہا ہے اور کھلاڑیوں کے معاوضوں میں بھی اضافے کی تجویز ہے۔کپتان سرفراز احمد، شعیب ملک،اظہرعلی، یاسر شاہ بدستور اے کٹیگری میں رہیں گے ، شان مسعود، عثمان شنواری، صاحبزادہ فرحان کو بھی سینٹرل کنٹریکٹ ملے گا۔

کرکٹ بورڈ نے فاسٹ باﺅلر وہاب ریاض کو کیریبیئن پریمیئر لیگ کےلئے این او سی جاری نہیں کیا ہے جب کہ شعیب ملک، محمد عرفان، عماد وسیم اور دیگر کھلاڑیوں کو ٹورنامنٹ کھیلنے کی اجازت دے دی ہے۔ وہاب ریاض انگلش ٹی ٹونٹی ٹورنامنٹ کھیل رہے ہیں اور دوسرے ٹورنامنٹ کے لیے انہیں خصوصی اجازت درکار ہوگی۔ یاسر شاہ کو مڈل سیکس کاو¿نٹی کی جانب سے کھیلنے کی پیشکش ہے لیکن نیوزی لینڈ اور آسٹریلیا کی سیریز کی اہمیت کے پیش نظر انہیں بھی این اوسی جاری نہیں کی گئی ہے ،جنید خان کو بھی ہوم سیریز سے قبل فٹنس بہتر بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔

پی سی بی کی نئی پالیسی کے تحت ایک سال میں ایک کھلاڑی پی ایس ایل سمیت دو ٹی ٹونٹی لیگز کھیل سکتا ہے، یہ پالیسی سینٹرل کنٹریکٹ کے حامل والے کھلاڑیوں کےلئے ہے۔ذرائع کا کہنا ہے کہ وہاب ریاض چوںکہ پاکستان ٹیم کا حصہ نہیں ہیں اس لیے بورڈ نے انہیں خصوصی اجازت دینے کےلئے مکی آرتھر سے مشاورت کی تھی اور مکی آرتھر نے بھی بورڈ کو یہی رائے دی ہے کہ وہاب ریاض کو این او سی جاری کردیا جائے،،شاہد آفریدی کو این او سی درکار نہیں کیوں کہ وہ ریٹائر کھلاڑی ہیں۔

Comments

comments

Leave a Comment