جو ٹیم دو میچ ہارے گی اُسے۔۔۔۔ پاکستان سپر لیگ میں نئےتنازعہ نے جنم لے لیا، ایسا انکشاف سامنے آگیاکہ شائقین بھی دنگ رہ جائیں گے

لاہور: پی ایس ایل 2 کے دوران 2 سابق پاکستانی کرکٹرز اور ایک آفیشل کی جانب سے فرنچائز کے نام پر رقم بٹورنے کا انکشاف ہوا ہے۔ ذرائع کے مطابق پی ایس ایل 2 کے دوران ایک منفرد واقعہ بھی رپورٹ ہوا تھا، 2 سابق پاکستانی انٹرنیشنل کرکٹرز اور ایک سابق ریجنل عہدیدار سمیت

تین افراد نے مل کرمختلف لوگوں سے رقوم وصول کیں، ان کا دعویٰ تھا کہ ایک فرنچائز کے اعلیٰ آفیشل اور کوچ ہمارے ہاتھوں میں ہیں،ہم نے انھیں گاڑی اورگھڑیاں بھی دی ہیں اور یہ ٹیم پی ایس ایل کے لگاتار2 میچز ہار جائے گی، اس دعوے کو سچ سمجھ کر جواریوں نے کافی پیسہ لگا دیا، جب مذکورہ فرنچائز اتفاق سے پہلا میچ ہاری تو مذکورہ تینوں افراد نے دعوی کیاکہ ایسا ہماری وجہ سے ہوا، اس پر انہیں مزید رقوم موصول ہوئیں مگر وہ ٹیم نے دوسرا میچ جیت لیا، پیسہ ڈوبنے پر لوگوں نے شور مچا دیا اور بعض شخصیات نے مذکورہ ٹیم سے رابطہ کیا، یہ سب باتیں جان کر آفیشلز حیران رہ گئے اور کسی ایسی کمپنی کا حصہ ہونے سے صاف انکارکیا۔مذکورہ ٹیم کے آفیشلز نے واقعے کی پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو رپورٹ بھی کر دی تاہم معاملے پر مزید کارروائی نہیں ہو سکی، مذکورہ فرنچائز کے ایک اعلیٰ آفیشل نے واقعے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اس سے پی سی بی اینٹی کرپشن یونٹ کو آگاہ کر دیا تھا، اس نے کیا کارروائی کی اس کا کچھ علم نہیں ہے۔یاد رہے کہ پی ایس ایل ٹو کے دوران ہی سپاٹ فکسنگ سکینڈل سامنے آیا تھا جس میں

کئی کھلاڑیوں کو سزاؤں کا سامنا کرنا پڑا۔کمپنی میں شامل ایک ٹیسٹ کرکٹرکا نام کئی دیگر فکسنگ سکینڈلز میں بھی رپورٹ ہو چکا ہے، دوسرے انٹرنیشنل کرکٹر ٹی وی چینلز پر بطور ماہر تبصرے کرتے بھی دکھائی دیتے رہتے ہیں۔ دوسری جانب پی سی بی کے ڈائریکٹر سکیورٹی اینڈ اینٹی کرپشن کرنل (ر) اعظم نے کہاکہ پی ایس ایل میں بہت سخت ضابطہ اخلاق لاگو ہے تاکہ فرنچائز مالکان و پلیئرز کسی غلط سرگرمی کا حصہ نہ بن سکیں،انھوں نے کہا کہ ہم تمام میچز کو ”سپورٹس ریڈار“ کمپنی سے مانیٹر کراتے ہیںجو دنیا بھر میں براہ راست نشر ہونے والے میچزکی بیٹنگ ویب سائٹس و دیگر ذرائع پر لگنے والی شرطوں کا جائزہ لیتے رہتی ہے، کسی مخصوص گیند یا میچ کے نتیجے کی جب کہیں کوئی غیر معمولی بات سامنے آئے تو وہ فوراً رپورٹ ہو جاتی ہے، پی ایس ایل ٹو میں سامنے آنےوالے سکینڈل کے بعد ہم نے اپنی حکمت عملی تبدیل کر لی ہے، اب ہمیں کوئی بھنک بھی پڑی کہ فلاں میچ میں کچھ گڑبڑ ہونےوالی ہے تو اسے پہلے ہی روک لیں گے، اس قسم کے معاملات سے ملک کی ہی بدنامی ہوتی ہے لہذا احتیاط ضروری ہے۔کرنل (ر) اعظم کا مزید کہنا تھاکہ ہمیں پی ایس ایل ٹو کے دوران کسی کی جانب سے سٹے بازی کیلئے کمپنی بنانے کا علم نہیں،انکی دانست کے مطابق کسی فرنچائز نے ایسا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں کیا البتہ ایسی کمپنیز مختلف لوگ بناتے رہتے ہیں چونکہ سابق کھلاڑی پروفیشنل کرکٹ کھیل چکے ہوتے لہذا انھیں اس کی خاصی سمجھ بوجھ ہوتی ہے، وہ اپنے اندازوں پر چلتے ہیں جو بعض اوقات درست بھی ثابت ہو جاتے ہیں۔

Comments

comments

Leave a Comment