سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم کی زندگی میں پیش آنے والا ایک ناقابل فراموش واقعہ جب انہیں ہیرو سے زیرو بن کرایک مجرم کی طرح عدالت میں حاضر ہونا پڑا

لاہور: فاضل جج نے پوچھا کہ تم کرکٹرز سے کہتے تھے کہ میں نے پیسے لگائے ہیں،میچ ہار جاؤ!راجہ اقبال نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا میں اکثر شرطیں ہار تا رہا ہوں۔اس نے کہا کہ وسیم اکرم کے والد کے اغواء کیس میں پولیس نے مجھے چھوڑ دیا۔

نامور کرکٹروسیم اکرم اپنے ااپنی ایک کتاب میں لکھتے ہیں۔۔۔۔۔ اس واقعے میں فاضل جج نے پوچھا کہ تم کرکٹرز سے کہتے تھے کہ میں نے پیسے لگائے ہیں،میچ ہار جاؤ!راجہ اقبال نے کہا کہ میں نے کبھی نہیں کہا میں اکثر شرطیں ہار تا رہا ہوں۔اس نے کہا کہ وسیم اکرم کے والد کے اغواء کیس میں پولیس نے مجھے چھوڑ دیا۔اس واقعے میں لال پل کے کچھ لڑکے ملوث تھے۔ راجہ ظفر اقبال عرف جو جو نے اپنے بیان میں کہا میں اپنے بھائی راجہ محمد اقبال کے ساتھ کاروبار کرتا ہوں مگرزیادہ عرصہ میں دیہات میں رہتا ہوں۔وسیم اکرم ہمارا ہمسایہ ہے اور ان سے اسی وجہ سے ملتے ہیں میں نے آج تک غیرملکی دورہ نہیں کیا اور میرے خان میں کوئی جوا نہیں کھیلتا۔فاضل جج نے اس کے بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ تمہارا بھائی مان چکا ہے کہ وہ شرطیں لگاتا تھا اور تم غلط بیانی کررہے ہو۔جو جو نے کہا کہ جناب!اگر میں غلط بیانی کروں تو مجھے پھانسی دے دیں۔فاضل جج نے کہا کہ قانون مجھے اجازت نہیں دیتا کہ غلط بیانی پر پھانسی دوں مگر اندر ضرور کردوں گا۔قومی کرکٹ ٹیم کے رکن وقار یونس نے اپنے بیان میں کھلاڑیوں پر جوااور میچ فکسنگ کے الزامات کی تردید

کی۔ انہوں نے کہا کہ میں89ء سے قومی ٹیم میں کھیل رہا ہوں میں میچ فکسنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔عاقب جاوید کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں۔فاضل جج نے پوچھا کہ عاقب نے کہا ہے کہ آپ نے اس کے کہنے پر میچ فکسنگ کے لئے لی گئی کار واپس کر دی تھی۔وقار نے کہا کہ جناب ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ عاقب 2سال ٹیم سے باہر رہا ہے شاید اس نے ٹیم میں جگہ بنانے کیلئے ایسی بات کی ہو۔فاضل جج کے سوال پروقار نے کہا کہ انگلینڈ میں ون ڈے سیریزہار گئے تھے مگریہ الزام غلط ہے کہ وہاں میچ فکسنگ ہوئی تھی فاضل جج نے پوچھا کہ بنگلور میں وسیم اکرم ٹھیک تھا یا نہیں؟وقارنے کہا یہ وسیم اکرم بتا سکت ہیں یا فزیوتھراپسٹ تاہم ہمیں پتہ تھا کہ وسیم اکرم ان فٹ ہیں وہ ٹیم کا مورال بلند کرنے کے لئے ساتھ گئے تھے۔وسیم اکرم گریٹ بالرہیں اورانڈین ٹیم پر ان کا پریشر تھا فاضل جج نے کہا کہ گریٹ تو آپ بھی ہیں لیکن آپ کا پریشر نہیں تھا۔وقار نے کہا کہ سری لنکا کے دورے کے دوران سلیم ملک پاکستان آئے تھے ان کا بیٹا بیمار تھا۔وقار نے کہا کہ میں واپس آگیا تھا بعد میں اخبارات میں پڑھا۔ جنوبی افیقہ اور شارجہ کے میچوں کے دوران میچ فکسنگ کی افواہیں تھیں اس لئے کھلاڑیوں نے قرآن پر حلف اٹھایا۔فاضل جج نے پوچھا کہ ڈریسنگ روم میں راشد لطیف اور سلیم ملک کی لڑائی ہوئی تھی؟وقار نے کہا کہ لڑائی ہوئی تھی اور میں نے انہیں

چھڑایا تھا تاہم راشد نے مجھے لڑائی کی وجہ نہیں بتائی۔وقار نے کہا کہ عطاء الرحمن اچھا آدمی ہے مگر جس طرح کے وہ بیانات دے رہا ہے عجیب سا لگ رہا ہے فاضل جج نے کہا کہ تم لوگوں نے اس پر دباؤ ڈالا تھا وہ سچ نہیں بول رہا تھا جب میں نے اسے جیل بھیجنے کی دھمکی دی تو پھروہ سچ بولا۔ کمیشن نے مبینہ بک میکر ظفر اقبال عرف جوجو کی طرف سے غلط بیانی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے شوکازنوٹس دیا کہ کیوں نہ اسے ضابطہ فوجداری کی دفعہ476 کے تحت سزا بنا کر جیل بھیج دیا جائے اور اسے سوچ سمجھ کر بیان دینے کے لئے تین دن مہلت دے دی۔17اکتوبر1998ء کے روز عدالتی کمیشن نے مبینہ سٹے باز خالد گٹی اور ایک ہوٹل کے مالک کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ خالد گٹی نے سٹے بازی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں گارنٹس کا کاروبار کرتاہوں۔نہ ہی مجھے کرکٹ سے دلچسپی ہے اور نہ ہی کبھی سرفراز نواز سے ملا ہوں۔سلیم ملک سے بھی میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی لہٰذا میچ فکس کرنے کے لئے اسے40لاکھ روپے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہوٹل کے مالک شیخ ضیاء الحق نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرا ہوٹل کبھی سٹے بازی میں ملوث نہیں رہا اور نہ ہی سٹے بازوں کو ہوٹل میں داخلے کی اجازت ہے۔میری ظفر اقبال جو جو سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔جسٹس قیوم کمیشن نے31اکتوبر 1998ء کو سعید انور،مشتاق احمد اور انضمام الحق کو طلب کیا

اور ان کے الگ الگ کمروں میں بیان لئے اس روز بھی جسٹس قیوم حلیمی وجلالت اور مدلل انداز میں کھلاڑیوں سے سوال کرتے رہے۔انہوں نے سعید انور کی تعریف کی اور کہا کہ وہ واحد کھلاڑی ہیں جن کا وہ کھیل پسند کرتے ہیں اور ان کی شرافت غیر مشکوک ہے۔دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔زء۔۔۔۔۔۔۔۔لال پل کے کچھ لڑکے ملوث تھے۔ راجہ ظفر اقبال عرف جو جو نے اپنے بیان میں کہا میں اپنے بھائی راجہ محمد اقبال کے

ساتھ کاروبار کرتا ہوں مگرزیادہ عرصہ میں دیہات میں رہتا ہوں۔وسیم اکرم ہمارا ہمسایہ ہے اور ان سے اسی وجہ سے ملتے ہیں میں نے آج تک غیرملکی دورہ نہیں کیا اور میرے خان میں کوئی جوا نہیں کھیلتا۔فاضل جج نے اس کے بیان کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کہا کہ تمہارا بھائی مان چکا ہے کہ وہ شرطیں لگاتا تھا اور تم غلط بیانی کررہے ہو۔جو جو نے کہا کہ جناب!اگر میں غلط بیانی کروں تو مجھے پھانسی دے دیں۔فاضل جج نے کہا کہ قانون مجھے اجازت نہیں دیتا کہ غلط بیانی پر پھانسی دوں مگر اندر ضرور کردوں گا۔قومی کرکٹ ٹیم کے رکن وقار یونس نے اپنے بیان میں کھلاڑیوں پر جوااور میچ فکسنگ کے الزامات کی تردید کی۔ انہوں نے کہا کہ میں89ء سے قومی ٹیم میں کھیل رہا ہوں میں میچ فکسنگ کے بارے میں کچھ نہیں جانتا۔عاقب جاوید کے ساتھ میرے اچھے تعلقات ہیں۔فاضل جج نے پوچھا کہ عاقب نے کہا ہے کہ آپ نے اس کے کہنے پر میچ فکسنگ کے لئے لی گئی کار واپس کر دی تھی۔وقار نے کہا کہ جناب ایسا کوئی واقعہ نہیں ہوا۔ عاقب 2سال ٹیم سے باہر رہا ہے شاید اس نے ٹیم میں جگہ بنانے کیلئے ایسی بات کی ہو۔فاضل جج کے سوال پروقار نے کہا کہ

انگلینڈ میں ون ڈے سیریزہار گئے تھے مگریہ الزام غلط ہے کہ وہاں میچ فکسنگ ہوئی تھی فاضل جج نے پوچھا کہ بنگلور میں وسیم اکرم ٹھیک تھا یا نہیں؟وقارنے کہا یہ وسیم اکرم بتا سکت ہیں یا فزیوتھراپسٹ تاہم ہمیں پتہ تھا کہ وسیم اکرم ان فٹ ہیں وہ ٹیم کا مورال بلند کرنے کے لئے ساتھ گئے تھے۔وسیم اکرم گریٹ بالرہیں اورانڈین ٹیم پر ان کا پریشر تھا فاضل جج نے کہا کہ گریٹ تو آپ بھی ہیں لیکن آپ کا پریشر نہیں تھا۔وقار نے کہا کہ سری لنکا کے دورے کے دوران سلیم ملک پاکستان آئے تھے ان کا بیٹا بیمار تھا۔وقار نے کہا کہ میں واپس آگیا تھا بعد میں اخبارات میں پڑھا۔ جنوبی افیقہ اور شارجہ کے میچوں کے دوران میچ فکسنگ کی افواہیں تھیں اس لئے کھلاڑیوں نے قرآن پر حلف اٹھایا۔فاضل جج نے پوچھا کہ ڈریسنگ روم میں راشد لطیف اور سلیم ملک کی لڑائی ہوئی تھی؟وقار نے کہا کہ لڑائی ہوئی تھی اور میں نے انہیں چھڑایا تھا تاہم راشد نے مجھے لڑائی کی وجہ نہیں بتائی۔وقار نے کہا کہ عطاء الرحمن اچھا آدمی ہے مگر جس طرح کے وہ بیانات دے رہا ہے عجیب سا لگ رہا ہے فاضل جج نے کہا کہ تم لوگوں نے اس پر دباؤ ڈالا تھا وہ سچ نہیں بول رہا تھا جب میں نے

اسے جیل بھیجنے کی دھمکی دی تو پھروہ سچ بولا۔ کمیشن نے مبینہ بک میکر ظفر اقبال عرف جوجو کی طرف سے غلط بیانی کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اسے شوکازنوٹس دیا کہ کیوں نہ اسے ضابطہ فوجداری کی دفعہ476 کے تحت سزا بنا کر جیل بھیج دیا جائے اور اسے سوچ سمجھ کر بیان دینے کے لئے تین دن مہلت دے دی۔17اکتوبر1998ء کے روز عدالتی کمیشن نے مبینہ سٹے باز خالد گٹی اور ایک ہوٹل کے مالک کا بیان بھی ریکارڈ کیا۔ خالد گٹی نے سٹے بازی میں ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ میں گارنٹس کا کاروبار کرتاہوں۔نہ ہی مجھے کرکٹ سے دلچسپی ہے اور نہ ہی کبھی سرفراز نواز سے ملا ہوں۔سلیم ملک سے بھی میری کبھی ملاقات نہیں ہوئی لہٰذا میچ فکس کرنے کے لئے اسے40لاکھ روپے دینے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ہوٹل کے مالک شیخ ضیاء الحق نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ میرا ہوٹل کبھی سٹے بازی میں ملوث نہیں رہا اور نہ ہی سٹے بازوں کو ہوٹل میں داخلے کی اجازت ہے۔میری ظفر اقبال جو جو سے کبھی ملاقات نہیں ہوئی۔جسٹس قیوم کمیشن نے31اکتوبر 1998ء کو سعید انور،مشتاق احمد اور انضمام الحق کو طلب کیا اور ان کے الگ الگ کمروں میں بیان لئے اس روز بھی جسٹس قیوم حلیمی وجلالت اور مدلل انداز میں کھلاڑیوں سے سوال کرتے رہے۔انہوں نے سعید انور کی تعریف کی اور کہا کہ وہ واحد کھلاڑی ہیں جن کا وہ کھیل پسند کرتے ہیں اور ان کی شرافت غیر مشکوک ہے۔دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔

Comments

comments

Leave a Comment