سپاٹ فکسنگ پر سزا پانے والے ناصر جمشید کا اچانک بڑا فیصلہ

لاہور: اسپاٹ فکسنگ کیس میں معطل کرکٹر ناصر جمشید نے پاکستان کرکٹ بورڈ ((پی سی بی)) کے تمام الزامات کا جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلے باز ناصر جمشید اسپاٹ فکسنگ سے متعلق 18 مئی تک تمام الزامات کے جواب جمع کرا دیں گے اور پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کی سماعت بھی اسی روز مقرر ہے۔ذرائع کے مطابق ناصر جمشید وکیل کے توسط سے جواب جمع کرائیں گے اور پی سی بی کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات کے خلاف کیس لڑیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں ناصر جمشید سمیت شرجیل خان، محمد عرفان اور خالد لطیف کے نام سامنے آئے تھے جنہیں بعدازاں معطل کیا گیا۔۔پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے 11 دسمبر 2017 کو ناصر جمشید کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ان پر ایک سال کے لئے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی تھی۔ ناصر جمشید پر عدم تعاون کی شق پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی جب کہ ان پر اینٹی کرپشن کوڈ کی دوشقوں کی خلاف ورزیوں کا الزام تھا۔

لاہور: اسپاٹ فکسنگ کیس میں معطل کرکٹر ناصر جمشید نے پاکستان کرکٹ بورڈ ((پی سی بی)) کے تمام الزامات کا جواب دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ ذرائع کے مطابق بلے باز ناصر جمشید اسپاٹ فکسنگ سے متعلق 18 مئی تک تمام الزامات کے جواب جمع کرا دیں گے اور پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبونل کی سماعت بھی اسی روز مقرر ہے۔ذرائع کے مطابق ناصر جمشید وکیل کے توسط سے جواب جمع کرائیں گے اور پی سی بی کی جانب سے لگائے جانے والے تمام الزامات کے خلاف کیس لڑیں گے۔

یاد رہے کہ پاکستان سپر لیگ کے دوسرے ایڈیشن کے دوران اسپاٹ فکسنگ کے الزام میں ناصر جمشید سمیت شرجیل خان، محمد عرفان اور خالد لطیف کے نام سامنے آئے تھے جنہیں بعدازاں معطل کیا گیا۔۔پی سی بی کے اینٹی کرپشن ٹریبونل نے 11 دسمبر 2017 کو ناصر جمشید کے خلاف اسپاٹ فکسنگ کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ان پر ایک سال کے لئے کرکٹ کھیلنے پر پابندی لگا دی تھی۔ ناصر جمشید پر عدم تعاون کی شق پر ایک سال کی پابندی عائد کی گئی جب کہ ان پر اینٹی کرپشن کوڈ کی دوشقوں کی خلاف ورزیوں کا الزام تھا۔

Comments

comments

Leave a Comment