شائقین کرکٹ کے کام کی خبر : مشہور زمانہ دوسرا کو زوال کیوں اور کیسے آیا ؟ اس تحریر میں جانیے

لاہور(ویب ڈیسک)پاکستانی کرکٹ ٹیم کے سابق آف سپنر ثقلین مشتاق کو ہمیشہ اس بات پر فخر رہا ہے کہ آف سپن بولنگ میں مؤثر ہتھیار کے طور پر استعمال ہونے والی گیند ’دوسرا‘ انھوں نے متعارف کروائی جس کے بل پر نہ صرف انھوں نے بلکہ ان کے علاوہ کئی دوسرے آف سپنرز نے غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں۔

لیکن کیا وجہ ہے کہ بین الاقوامی کرکٹ میں اب یہ ’دوسرا‘ گیند دیکھنے میں نہیں آتی؟مبصرین اور ماہرین اس کی ایک بڑی وجہ یہ بتاتے ہیں کہ چونکہ یہ گیند کرکٹ کے قوانین کے تحت پندرہ ڈگری کے اندر رہتے ہوئے کرنی ممکن نہیں اس لیے آئی سی سی متعدد آف سپنرز کے بولنگ ایکشن کو مشکوک قرار دے چکی ہے لہٰذا اب یہ فن ختم ہو رہا ہے۔تاہم ثقلین مشتاق اس تاثر کو ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔بی بی سی اردو سے خصوصی بات چیت میں ان کا کہنا تھا کہ ’دوسرا 15 ڈگری میں رہتے ہوئے بالکل کی جا سکتی ہے ۔خود میں نے کی ہے اور کبھی بھی اپنے کریئر میں رپورٹ نہیں ہوا لیکن اس کے لیے صحیح تکنیک کی ضرورت ہے۔ گیند پر صحیح گرپ آنی چاہیے۔ اس کے لیے درکار مسلز (پٹھے) صحیح طور پر تیار ہوئے ہوں۔‘ثقلین مشتاق یہ بھی کہتے ہیں کہ آف سپن بولنگ ’دوسرا‘ کے بغیر بھی ممکن ہے۔’ہمارے یہاں یہ تاثر اتنا پختہ ہوچکا ہے کہ اگر کوئی بولر ’دوسرا‘ نہیں کرسکتا تو وہ آف سپنر نہیں ہے۔ اس بات کو ذہن سے نکالنے کی ضرورت ہے۔ ہمارے سامنے آسٹریلیا کے نیتھن لائن کی مثال موجود ہے جو یہ گیند نہیں کرتے بلکہ صرف

روایتی قسم کی آف سپن کرتے ہیں لیکن اس کے باوجو وہ اس دور کے سب سے کامیاب آف سپنر ہیں۔‘دوسرا کی تکنیک کیا ہے؟دوسرا آف سپن بولر کی وہ گیند ہوتی ہے جو اپنے روایتی راستے پر جانے کی بجائے دوسری سمت میں گھوم جاتی ہے یعنی یہ ایک لیگ سپنر کی گوگلی کے برابر ہے۔ایک آف سپنر بولر یہ گیند اپنے روایتی انداز سے ہی کرتا ہے۔ فرق صرف یہ ہوتا ہے کہ اس میں بولر انگلی شہادت اور دوسری انگلی کی جگہ شہادت کی انگلی اور تیسری انگلی کا استعمال کرتا ہے۔اس سے گیند آف سپن ہونے کی بجائے مخالف سمت میں گھومتی ہے اور سیدھے ہاتھ سے کھیلنے والے بلے باز کے لیے لیگ سپن بن جاتی ہے۔ثقلین مشتاق کے خیال میں عام سپن گیند بھی ایک مؤثر ہتھیار ہے۔’اگر آپ کو ’دوسرا‘ کی تکنیک معلوم نہیں ہے اور اس بارے میں آپ کو بتانے والا موجود نہیں ہے تو اس میں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ۔ میرا یقین ہے کہ آف سپنر کی وہ گیند جو اندر آتی ہے وہ وکٹ لینی والی گیند ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کو صحیح ویریئشن کے ساتھ سیدھی گیند کرنی آتی ہے تو آپ تینوں فارمیٹس میں ٹیم کی ریڑھ کی ہڈی بن سکتے ہیں۔

‘اگر دوسرا 15 ڈگری کی مقررہ حد میں رہتے ہوئے ممکن ہے تو پھر سعید اجمل کا کریئر کیوں ختم ہو گیا؟ثقلین مشتاق اس کا سبب سعید اجمل کے بولنگ ایکشن پر ہونے والے کام کو ادھورا چھوڑنے کو قرار دیتے ہیں۔ ’اگر آپ کو ذہنی طور پر اکھاڑ پھینکا جائے تو آپ کی تکنیک بھی ختم ہو جائے گی اور آپ اس پر عملدرآمد کی پوزیشن میں نہیں ہوں گے۔‘ان کا کہنا تھا کہ ’مجھے سعید اجمل کے ساتھ دلی ہمدردی ہے کیونکہ میں نے کسی نوجوان کو بھی سعید اجمل سے زیادہ محنت کرتے نہیں دیکھا۔ ساری چیزیں کلیئر ہو گئی تھیں۔ میں نے کرکٹ بورڈ سے بھی کہا تھا کہ ابھی آدھا کام ہوا ہے۔ ابھی بہت کام ہونا باقی ہے لیکن سعید اجمل کے بولنگ ایکشن میں تبدیلی کے بعد اس پر جو کام ہونا تھا وہ نہیں ہو سکا۔‘

Comments

comments

Leave a Comment