شعیب ملک کا سرفراز کی کپتانی پر اہم ترین بیان!کپتان اور ٹیم کے بارے سلیکٹرز اور پی سی بی سے بڑا مطالبہ

شُعیب ملک نے ٹی ٹؤنٹی سیریز کے بعد اپنے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ ٹیم پر کبھی بھی بوجھ نہیں بننا چاہتا اور جب میں نے سمجھا کہ اب میں کھیلنے کے قابل نہیں رہا.میں ایک لمحہ بھی ٹیم کے ساتھ نہیں رہوں گا اور ریٹائرمنٹ لے لوں گا.

انکا کہنا تھا کہ 100 فیصد فٹ ہوا تو کھیلوں گا اور اگر اندر کے انسان نے کہا کہ شُعیب میاں اب بس بہت ہو گیا تو اُدھر ہی کھیلنا ختم کر دوں گا.

شُعیب ملک کا کہنا تھا کہ ورلڈ کپ 2019 کھیل کر ون ڈے کرکٹ سے ریٹائرمنٹ لے لوں گا لیکن مُلک کے لئے ٹی ٹؤنٹی کرکٹ کھیلنا چاہتا ہوں.لیکن اُسکا انحصار فٹنس اور فارم پر ہے.

ملک کا مزید کہنا تھا کہ نوجوان ٹیلنٹ کو لگاتار مواقع دینے سے ہی اچھا کمبی نیشن بنا ہے اور اگر سلیکشن کُمیٹی افراتفری کا شکار ہوتی تو ٹیم کا حال انتہائی بُرا ہوتا.

شُعیب ملک سے جب سوال کیا گیا کہ ایشیا کپ 2018 میں سرفراز احمد کو کپتانی سے ہٹانے کی باتیں ہوئی ہیں اور اُنکی جگہ آپ کو کپتان بنانے کا کہا جا رہا تھا تو انکا کہنا تھا کہ یہ کہاں کا قانون ہے کہ اگر کسی ایک کھلاڑی کی کسی ایک ٹورنامنٹ یا سیریز میں بطور کپتان پرفارمنس اچھی نہیں رہی تو اُسے ہٹا دیا جائے جبکہ اگر کوئی ایک دو میچز یا سیریز میں اچھا پرفارم کر جائے تو اُسے کپتان بنانے کی باتیں شروع ہو جائیں.

انکا کہنا تھا کہ ایشیا کپ میں سرفراز احمد کی ناقص کارکردگی کے بعد کپتانی کے لئے میرا نام چلتا رہا لیکن میں نے تب بھی کپتانی کا نہیں سوچا اور نہ ہی ایسا ہونا چاہیے.

شُعیب ملک نے کہا ایک کپتان کو مُکمل اعتماد دے کر لمبے عرصے کے لئے کپتان بنا دیا جائے اور پھر اُسکو اپنی صلاحیتوں کو مُکمل آزمانے کا موقع دیا جائے.

انکا کہنا تھا کہ سرفراز احمد کی قیادت میں ہی پاکستان ٹیم نے تاریخ میں پہلی بار چئیمپنز ٹرافی جیتی اور اسکے بعد اب تک 11 ٹی ٹؤنٹی سیریز میں فتوحات حاصل کیں.

شُعیب ملک نے کہا کہ ایشیا کپ 2018 کے بعد اگر افراتفری مچا دی جاتی اور کپتان اور چند کھلاڑیوں کو ڈراپ کر دیا جاتا تو یہ تنائج نہ آتے.اور اُسی ٹیم اور اُسی کپتان نے اب پہلے آسٹریلیا کے خلاف ٹیسٹ سیریز میں شاندار کارکردگی دکھائی ہے.اور پھر کینگروز اور کیویز کے خلاف ٹی ٹؤنٹی سیریز میں کلین سویپ کیا.

ملک کا کہنا تھا کہ سرفراز احمد تینوں فارمیٹس میں کپتانی کی اہلیت رکھتے ہیں اور اپنے آپکو لگاتار بہترین کر رہے ہیں جو کہ پاکستان کرکٹ کے لئے نیک شگون ہے.

سینیر بلے باز نے کہا کہ کپتان اور کھلاڑیوں پر اعتماد رکھنے سے ہی مثبت نتائج سامنے آئے ہیں اور ورلڈ کپ 2019 تک اسی ٹیم کو کنفرم کر دینا چاہیے.تاکہ تمام کھلاڑی اپنا ذہین بنا لیں اور بہترین پرفارمنس دے سکیں.

انکا کہنا تھا کہ ایک بہترین کمبی نیشن بنا ہوا ہے اور باؤلرز کو جس نمبر پر بھی بھیجو وکٹیں لیتے ہیں اور بلے بازوں کو جس نمبر پر بھی بھیجو رنز بنا کر دکھاتے ہیں اور یہ ہی سب سے بہترین چیز ہے.

Comments

comments

Leave a Comment