”مجھے ایسے معاشرے کا حصہ ہونے پر افسوس ہے “ویرات کوہلی نے بھارتی معاشرے کے شرمناک چہرے سے پردہ ہٹا دیا ،ایسی بات کہہ دی کہ مودی سرکار کو مرچیں لگ جائیں گی

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ شرمناک واقعات قابل قبول سمجھے جاتے ہیں ،مجھے ایسے معاشرے کا حصہ ہونے پر افسوس ہوتا ہے ۔بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے معصوم آصفہ کے ساتھ ہونے والے ہولناک واقعے پر شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میرا تمام ہندوستانیوں سے صرف ایک سوال ہے اگر خدانہ کرے ایسا واقعہ آپ کے خاندان میں کسی کے ساتھ ہو تو کیا آپ سائیڈ پر کھڑے ہو کر دیکھتے رہیں گے یا مدد کریں گے؟

میرے خیال میں ایسی چیزیں جان بوجھ کر ہونے دی جاتی ہیں اور اگر لوگ بھی ایسے واقعات پر کوئی اعتراض کرتے کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنے میں کوئی بڑی بات نہیں ،ان کے خیال میں وہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسی گھناونی حرکت کر کے بچ سکتے ہیں کیونکہ سیاستدان بھی ان کی حمایت کریں گے ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے جو نا قابل قبول ہے اور مجھے ایسے معاشرے کا ایک حصہ ہونے پر افسوس ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں زیادہ میچور ہونے کے ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہمارے ساتھ یہ ہوتو رد عمل کیا ہو گا ؟۔

نئی دہلی (ڈیلی پاکستان آن لائن )بھارتی کپتان ویرات کوہلی نے کہا ہے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کے ساتھ شرمناک واقعات قابل قبول سمجھے جاتے ہیں ،مجھے ایسے معاشرے کا حصہ ہونے پر افسوس ہوتا ہے ۔بھارتی کرکٹ ٹیم کے کپتان ویرات کوہلی نے معصوم آصفہ کے ساتھ ہونے والے ہولناک واقعے پر شدید مذمت کرتے ہوئے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا کہ میرا تمام ہندوستانیوں سے صرف ایک سوال ہے اگر خدانہ کرے ایسا واقعہ آپ کے خاندان میں کسی کے ساتھ ہو تو کیا آپ سائیڈ پر کھڑے ہو کر دیکھتے رہیں گے یا مدد کریں گے؟میرے خیال میں ایسی چیزیں جان بوجھ کر ہونے دی جاتی ہیں اور اگر لوگ بھی ایسے واقعات پر کوئی اعتراض کرتے کیو نکہ وہ سمجھتے ہیں کہ کسی بھی لڑکی کے ساتھ ایسا واقعہ پیش آنے میں کوئی بڑی بات نہیں ،ان کے خیال میں وہ کسی لڑکی کے ساتھ ایسی گھناونی حرکت کر کے بچ سکتے ہیں کیونکہ سیاستدان بھی ان کی حمایت کریں گے ،یہ ایک حقیقت ہے کہ ہمارے معاشرے کے کچھ لوگوں کے ذہنوں میں لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے ایسے واقعات کو قابل قبول سمجھا جاتا ہے جو نا قابل قبول ہے اور مجھے ایسے معاشرے کا ایک حصہ ہونے پر افسوس ہے ۔انہوں نے مزید کہا کہ میرا خیال ہے کہ ہمیں زیادہ میچور ہونے کے ساتھ یہ بھی سوچنا چاہیے کہ اگر ہمارے ساتھ یہ ہوتو رد عمل کیا ہو گا ؟۔

Comments

comments

Leave a Comment