مستقبل میں میری زندگی پر فلم بنی تو کون سا بھارتی اداکار میرا کردار ادا کرے! محمد عامر نے خواہش کا اظہار کر دیا

ہراری: فاسٹ بولر محمد عامر نے خود پر بائیوپک کیلئے بھارتی اداکار کا انتخاب بھی کرلیا، انھوں نے کہاکہ اگر مجھ پر فلم بنی تو اس کیلیے شاہد کپور زیادہ موزوں رہیں گے۔حال ہی میں دنیا سے رخصت ہونے والے سائنسدان اسٹیون ہاکنگ کو انھوں نے اپنی پسندیدہ شخصیت قرار دیا، انھوں نے کہا کہ باپ کا فرض نبھانا ویرات کوہلی کو بولنگ سے زیادہ مشکل ہے۔

ان خیالات کا اظہارانھوں نے ایک انٹرویو میں کیا۔فاسٹ بولر عامر نے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں ویرات کوہلی کو آئوٹ کرکے ایک طرح سے بھارتی بیٹنگ کی کمر توڑی تھی،البتہ وہ اس سے بھی زیادہ مشکل کام والد کا فرض نبھانے کو قرار دیتے ہیں،ان کی ایک 9ماہ کی بیٹی منسا ہے، انھوں نے کہاکہ میرے لیے والد بننا زیادہ چیلنجنگ ثابت ہوا کیونکہ اس کی ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔

محمد عامر نے آسٹریلیا کے سابق کپتان اسٹیون اسمتھ کو زیادہ مشکل بیٹسمین قرار دیا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ وہ کرکٹ تاریخ کے کس بیٹسمین کو گیند کرنا پسند کرتے تو انھوں نے سابق ویسٹ انڈین کپتان برائن لارا کا نام لیتے ہوئے کہا کہ میں نے ان کی جو ویڈیوز دیکھیں ان سے ہی اچھی طرح اندازہ لگالیا کہ وہ اپنے دور کے مشکل ترین بیٹسمین تھے۔دنیائے کرکٹ سے باہر کسی شخصیت کو پسند کرنے کے بارے میں محمد عامر نے سائنسدان اسٹیون ہاکنگ کا نام لیا جنھوں نے ایک خطرناک بیماری میں مبتلا ہونے کے باوجود کافی شہرت کمائی، فاسٹ بولر نے کہاکہ میں ان لوگوں کو پسند کرتا ہوں جو اپنی زندگی میں مختلف رکاوٹوں پر عبور پاکر کامیابی حاصل کرتے ہیں، حال ہی میں مجھے میری بیوی نرجس نے اس سائنسدان کے بارے میں بتایا جو چلنے پھرنے اور بات چیت کرنے کے قابل نہیں تھے اس کے باوجود پوری دنیا میں شہرت حاصل کی۔

اب تک انٹرنیشنل کرکٹ میں 213وکٹیں لینے والے عامر تینوں فارمیٹس میں ہیٹ ٹرک کے خواہاں ہیں، اس کے ساتھ ان کی خواہش ہے کہ نوبال پر فری ہٹ کا قانون بھی ختم کردینا چاہیے۔ انھیں بالی ووڈ فلموں میں بھی کافی دلچسپی ہے اور چاہتے ہیں کہ اگر کبھی ان کی زندگی پر فلم بنے تو اس میں ان کا کردار شاہد کپور ادا کریں۔ عامر نے آخری فلم جو دیکھی وہ پدماوت ہے جس میں شاہد کپور بھی شامل ہیں۔ عامر نے یہ بھی بتایا کہ وہ فٹبال کے بھی بہت بڑے شائق اور ارجنٹائن کے سرگیو اگوئیرو کو پسند کرتے ہیں۔

Comments

comments

Leave a Comment