ملتان سلطانز کے ساتھ کیا ہوا

گذشتہ دونوں ایڈیشنزمیں بھی یہ ٹیم سب سے آخری نمبر پر رہی، لہذا ایک بار پھر ایسا ہونے پر کسی کو حیرت نہیں ہوئی،اس کی وجوہات کیا تھیں اس پر ہم گذشتہ دنوں بات کر چکے، البتہ ملتان سلطانز کا اخراج غیر متوقع تھا،اس بار کون سی ٹیم چیمپئن بنے گی ایونٹ سے قبل جب یہ سوال پوچھا جاتا تو زیادہ تر لوگ اسی کا ہی نام لیتے،ابتدائی دونوں ایڈیشنز کی کامیابی کے بعد چھٹی ٹیم کیلیے بورڈکے پاس آپشنز کی کمی نہ تھی،آخر میں بازی ملتان سلطانز کے نام رہی جو ایونٹ کی سب سے مہنگی ٹیم ثابت ہوئی۔

کوئٹہ گلیڈی ایٹرز10برس کیلیے11ملین ڈالرز میں فروخت ہوئی جبکہ ملتان سلطانز سے 8 برس کیلیے41.6ملین ڈالر(5.2ملین سالانہ) کا معاہدہ ہوا، شعیب ملک کپتان ، ٹام موڈی کوچ، وسیم اکرم ڈائریکٹر و بولنگ کوچ مقرر ہوئے،اونرز نے مہنگے داموں ٹیم خرید تو لی مگر انھیں خاصی مشکلات کا سامنا بھی کرنا پڑا، مقررہ تاریخ سے ایک دن قبل تک فرنچائز اور پلیئرز فیس کی ادائیگی نہیں ہوئی تھی، اس کی تصدیق خود ٹیم کے ایک اعلیٰ آفیشل نے کی مگر پھر بعد میں بتایا کہ واجب الادا رقم جمع کرا دی گئی ہے، اس کی تصدیق نہ ہو سکی کیونکہ پی سی بی پی ایس ایل کے معاملات سات پردوں میں چھپا کر رکھتا ہے،بس صرف جب خود ضرورت محسوس ہو تو معلومات میڈیا کو فراہم کی جاتی ہیں،فرنچائز کو بورڈ کی جانب سے بینک گارنٹی کیش کرانے کی دھمکی بھی ملی تھی، اطلاعات کے مطابق ملتان سلطانز نے خود 33 فیصد شیئرز پراپرٹی ودیگر کاروبار سے منسلک ایک شخصیت کو فروخت کیے۔

جنھوں نے ابتدائی طور پر 20کروڑ روپے دے کر ٹیم کو مشکلات سے نکالا، پی سی بی کی ایک اعلیٰ شخصیت نے ملتان سلطانز کو مین اسپانسر دلانے کا وعدہ بھی کیا تھا، ایک بینک سے 15 کروڑ روپے کی ڈیل تقریباً فائنل ہو گئی تھی مگر عین وقت پر بینک پیچھے ہٹ گیا، کرکٹنگ لحاظ سے دیکھا جائے تو اسکواڈ میں آل راؤنڈرز اور پاور ہٹرز کی کمی محسوس ہوئی، البتہ بولنگ میں سہیل تنویر، محمد عرفان اور جنید خان جیسے اچھے پیسرز جبکہ عمران طاہر جیسا بہترین اسپنر موجود تھا،ایمرجنگ کیٹیگری میں لیگ اسپنر سیف بدر کو لیا مگر 10 میچز میں صرف 2 ہی اوورز کرائے جس سے واضح ہو گیا کہ انھیں بس فارمیلٹی مکمل کرنے کیلیے کھلایا جا رہا تھا۔ گذشتہ سیزن میں احمد شہزاد کوئٹہ گلیڈی ایٹرز میں فٹ نہیں ہو رہے تھے، ان کی بعض عادات اور آف دی فیلڈ مصروفیات ٹیم مینجمنٹ کو ایک آنکھ نہیں بھاتی تھیں، اسی لیے تیسرے ایڈیشن سے قبل الوداع کہہ دیا گیا، ملتان سلطانز نے انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا مگر پہلے ہی میچ میں صفر سے انھوں نے فرنچائز کی آنکھیں کھول دیں،10 میچز میں 19 کی اوسط سے 173 رنز بنا کر وہ ٹیم کیلیے گھاٹے کا سودا ثابت ہوئے، ملتان سلطانز نے دفاعی چیمپئن پشاور زلمی کو 7 وکٹ سے شکست دے کر ایونٹ میں زبردست انٹری دی۔

اسے فوراً ہی ٹائٹل فیورٹس میں شامل کر لیا گیا، ٹیم نے پھر اگلے میچ میں لاہور قلندرز کو بھی قابو کر لیا تو ہر طرف اسی کے نام کے ڈنکے بجنے لگے،پوائٹنس ٹیبل پر بھی ٹاپ پوزیشن مل گئی، مگر پھر اسلام آباد یونائٹیڈ کیخلاف5 وکٹ کی شکست ٹیم کو عرش سے فرش پر واپس لے آئی،کراچی کنگز سے اگلا میچ بارش کی نذر ہوا ، پھر ملتان سلطانز نے گذشتہ برس کے فائنلسٹ کوئٹہ گلیڈی ایٹرز کو 9 وکٹ سے آؤٹ کلاس کر کے تہلکہ مچا دیا،ٹیم نے پھر پشاور زلمی کو ایک بار پھر مات دے دی،اگلے میچ میں کوئٹہ کیخلاف 2 وکٹ سے شکست ہوئی، ملتان کیلیے سب سے بڑا دھچکا ایونٹ کی سب سے کمزور سائیڈ لاہور قلندرز کے خلاف شکست ثابت ہوا،مسلسل دوسری ناکامی سے مہم کمزور پڑنے لگی،پھر کراچی کنگز اور اسلام آباد یونائٹیڈ کیخلاف بھی ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑا، اب ٹیم کے پلے آف میں پہنچنے کا انحصار دیگر ٹیموں پر تھا مگر ایسا نہ ہو سکااوردھوم دھام سے ایونٹ میں شریک ہونے والی ٹیم کو پلے آف سے قبل ہی ایونٹ سے باہر ہونا پڑا،یہ بہت بڑا اپ سیٹ تھا، کوچنگ سیٹ اپ اور ٹیم میں بعض بڑے ناموں کی موجودگی کے باوجود ایسا کیوں ہوا شائقین اس پر اب بھی حیران ہیں، بیٹنگ لائن نے سب سے زیادہ مایوس کیا خصوصاً اختتامی میچز میں بیٹسمین جدوجہدکرتے رہے۔

سنگاکارا 269 رنز بنا کر سب سے آگے رہے،انھوں نے 3 نصف سنچریاں بنائیں جبکہ دیگر تمام پلیئرز نے مل کربھی اتنی ہی ففٹیز اسکور کیں، اس سے بیٹنگ کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے،پولارڈ اور صہیب مقصود کی ایک، ایک بڑی اننگز ہی سامنے آئی،کپتان شعیب ملک ٹاپ اسکورر رہے مگر مجموعی کارکردگی ان کے شایان شان نہیں تھی، بولرز میں عمر گل کو دیر سے آزمایا گیا، وہ آتے ہی 6 وکٹیں لے اڑے مگر پھر فٹنس مسائل کا سامنا کرنا پڑا، سہیل تنویر نے ابتدا میں اچھی بولنگ کی بعد میں وکٹوں کیلیے ترس گئے، عمران طاہر نے بہتر پرفارم کرتے ہوئے سب سے زیادہ13 وکٹیں لیں،محمد عرفان کی کارکردگی غیرمعمولی نہیں تھی،جنید خان نے تسلسل سے اچھی بولنگ نہیں کی،ڈیرن براوو بھی بجھے بجھے سے رہے، ایک نمایاں بات یہ نظر آئی کہ ناکامیوں کے باوجود بینچ اسٹرینتھ کو نہیں آزمایا گیا، پورے ایونٹ میں 14 کھلاڑی ہی ایکشن میں نظر آئے۔

کچھ شیڈول بھی سازگار نہ رہا،9 دن میں 6 میچز کھیلنا پڑے۔ ملتان کی طرح دیگر بیشتر فرنچائزز بھی کوچنگ اسٹاف میں غیرملکیوں کو زیادہ ترجیح دیتی ہیں حالانکہ اپنے کوچز بھی کم نہیں،پی سی بی کو چاہیے کہ ہر ٹیم کے ساتھ اپنے ٹاپ کوچز کو منسلک کرائے چاہے انھیں اس دوران تنخواہ ایک ہی ملے اور بطور نائب ہی فرائض نبھائیں، اس سے انھیں سیکھنے کا موقع اور بڑے ایونٹ کا ایکسپوژر بھی ملے گا، جیسے عبدالرحمان پشاور زلمی کیلیے بہترین انداز میں فرائض انجام دے رہے ہیں اسی طرح دیگر کوچز بھی اپنے ڈومیسٹک کرکٹ کے تجربے کی بنیاد پر کھلاڑیوں کی خامیاں دور کرنے میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں،آپ انھیں آزما کر تو دیکھیں، خیر یہ پہلا سال تھا ملتان سلطانز نے اس میں بہت کچھ سیکھا ہو گا لیکن کرکٹ فیلڈ سے زیادہ باہر کے مسائل فرنچائز کیلیے مشکلات کا باعث بنیں گے، البتہ ابھی اگلے ایونٹ میں ایک سال باقی اورامید ہے تب تک معاملات بہتر ہو چکے ہوں گے۔

Comments

comments

Leave a Comment