وزیر اعظم عمران خان کی کرکٹ بورڈ میں بڑی تبدیلیاں پی ایس ایل کے مستقبل پر غیر یقینی کے بادل چھا گئے

لاہور: پی ایس ایل کی فرنچائزز کو ایونٹ کے مستقبل کی فکرستانے لگی،انھیں یہ بھی علم نہیں کہ لیگ کی پرانی مینجمنٹ برقرار رہے گی یا نئی کا تقرر ہوگا۔تفصیلات کے مطابق نجم سیٹھی کی رخصتی کے بعد احسان مانی نئے چیئرمین پی سی بی بن چکے ہیں،اب تک انکا کسی پی ایس ایل فرنچائز سے باقاعدہ رابطہ نہیں ہوا ، صرف پشاور زلمی کے مالک جاوید آفریدی ازخود ملاقات کیلئے گئے ۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ فرنچائزز بعض حوالوں سے تشویش کا شکار ہیں، انھیں یہ بھی علم نہیں کہ لیگ کی پرانی مینجمنٹ برقرار رہے گی یا نئی کا تقرر ہوگا،بعض اونرز نے آپس میں رابطہ کر کے معاملات پر بات چیت کی ہے،انھیں زیادہ فکر براڈکاسٹنگ رائٹس پر ہے جس کیلئے متوقع رقم 75 ملین ڈالر سامنے آئی تھی، ان کی آمدنی کا زیادہ انحصار اسی پر ہوگا، اگر معاہدے سے قبل پلیئرز ڈرافٹ کا انعقاد ہوا تو متوقع رقم ملنے کا امکان کم ہوگا کیونکہ براڈ کاسٹر کی دلچسپی اسی پر ہوتی ہے کہ کتنے بڑے کھلاڑی ایونٹ میں آ رہے ہیں۔

واضح رہے کہ پی سی بی براڈکاسٹنگ آمدنی کا 85 فیصد حصہ فرنچائزز کو دیتا ہے مگر اس میں سے پروڈکشن کی رقم منہا کر لی جاتی ہے، ٹیموں کو اس پر بھی اعتراض ہے،ابھی بورڈ کو ٹائٹل سپانسر شپ کا بھی نیا معاہدہ کرنا ہے۔ادھر ذرائع کا کہنا ہے کہ احسان مانی ممکنہ طور پر 15 ستمبر کو پی ایس ایل گورننگ کونسل کے اجلاس کی صدارت کریں گے۔ انھوں نے اس کے سربراہ کی ذمہ داری سنبھال لی ہے، وہ فرنچائز مالکان کواپنے منصوبوں سے آگاہ اوریہ یقین دلائیں گے کہ چیئرمین کی تبدیلی سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا اور مفادات کا خیال رکھا جائےگا۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ چیئرمین بورڈ بھی اچھی طرح یہ بات جانتے ہیں کہ اگر نئے معاہدوں میں ویلیو کے مطابق رقم نہ ملی تو اس سے ان کی ساکھ پر اثر پڑےگا، اس لیے وہ ان پر خصوصی توجہ دیں گے۔واضح رہے کہ گذشتہ ماہ فرنچائزز نے پی سی بی کو خط ارسال کر کے میٹنگ کے حوالے سے وضاحت طلب کی تھی۔

Comments

comments

Leave a Comment