پاکستان بمقابلہ آئرلینڈ:آج کھیلے جانے والے میچ کے حوالے سے بی بی سی کی وہ خبر جو چند گھنٹوں میں وائرل ہو گئی

آئرلینڈ : آئرلینڈ کی ویمن کرکٹ ٹیم کو ٹیسٹ سٹیٹس سنہ 2000 میں ملا تھا۔ حسن اتفاق کہیے کہ تب بھی آئرلینڈ کے ٹیسٹ ڈیبیو کے لیے قرعہ پاکستان کے نام ہی نکلا تھا۔پاکستان کی ویمن کرکٹ ٹیم ڈبلن میں اتری تو چار روزہ میچ کے لیے تھی لیکن قضیہ دوسری شام

سے پہلے ہی نمٹ گیا۔ سیمنگ وکٹ کی تاب نہ لاتے ہوئے پاکستان وہ میچ ایک اننگز اور 54 رنز سے ہار گیا۔یہ آئرش کرکٹ کی تاریخ میں بہت بڑا موقع تھا کیونکہ اس سے پہلے ٹیسٹ کرکٹ میں صرف ایک ہی بار ایسا ہوا تھا کہ کوئی ٹیم اپنا ڈیبیو ٹیسٹ میچ جیتی ہو۔ آسٹریلیا کی مینز ٹیم کے بعد یہ اعزاز آئرلینڈ کی ویمن ٹیسٹ ٹیم کو ہی نصیب ہوا۔آئرلینڈ کی مینز کرکٹ ٹیم کے لیے سب سے بڑا لمحہ کوئی سات سال بعد آیا۔ حسن اتفاق ہی کہیے کہ اس تاریخی اپ سیٹ میں بھی پاکستان کا ہی نام آنا تھا۔آج آئرلینڈ کی جو الیون ملکی تاریخ کا پہلا ٹیسٹ میچ کھیلنے اترے گی، اس میں تین چار چہرے وہی ہوں گے جو مئی 2007 کی اس شام بھی آئرش ڈریسنگ روم کا حصہ تھے۔ وہ تلخ شام، جب آئرلینڈ نے گرین ٹاپ وکٹ پہ پاکستان کو ورلڈکپ سے ناک آؤٹ کر دیا۔کرکٹ میں نوآموز ٹیموں سے مقابلے کی بھی الگ ہی الجھنیں ہیں۔ جیتنے پہ کوئی تحسین روا نہیں سمجھی جاتی، ہار پہ ہزیمت سوا ہوتی ہے۔پاکستان کی اضافی الجھن یہ ہے کہ دو سال پہلے یہی ٹیم جب انگلینڈ کے دورے پہ گئی تھی تو رینکنگ میں دوسرے نمبر پہ تھی اور اسی دورے کے نتائج نے پاکستان کو ٹیسٹ چیمپیئن بنایا تھا۔لیکن اس وقت پاکستان عالمی رینکنگ میں ساتویں نمبر پہ کھڑا ہے۔ پچھلے دس میں سے آٹھ ٹیسٹ ہار چکا ہے۔

یاسر شاہ دستیاب نہیں ہیں اور ان سب سے زیادہ پریشان کن امر یہ کہ گذشتہ بارہ ماہ میں پاکستان نے صرف دو ٹیسٹ میچ کھیلے ہیں۔پچھلے دو سال میں پاکستان کی ٹیسٹ ٹیم کچھ ایسے بحران سے گزری ہے کہ بھلے کوئی بھی آئرلینڈ کو فیورٹ قرار نہیں دے رہا لیکن آئرش کنڈیشنز میں پاکستان کو بھی واضح فیورٹ نہیں کہا جا سکتا۔آئرش کپتان نے بالکل بجا کہا کہ صرف ان کے لیے ہی نہیں، پورے آئرلینڈ کے لیے یہ ایک تاریخی موقع ہو گا اور چونکہ یہ میچ انہی کی کنڈیشنز میں کھیلا جا رہا ہے سو انہیں توقعات بلند رکھنے کا حق ہے۔پاکستان کی بیٹنگ لائن اپ ایک بار پھر اپنی ترتیب درست کرتی دکھائی دے گی۔ امام الحق کی آمد سے اظہر علی پھر ون ڈاؤن پہ کھیلیں گے۔پہلے ٹور میچ میں پاکستانی بیٹنگ سیمنگ کنڈیشنز سے دھوکہ کھا گئی تھی۔ ملاحدے کی وکٹ اور پہلے دو روز بارش کی پیشگوئی پاکستانی بیٹنگ کے لیے خوش شگون نہیں ہے۔تاہم پاکستان کے لیے کئی حوصلہ افزا پہلو پچھلے پریکٹس میچ میں نظر آئے۔ امام الحق فارم میں نظر آئے، اسد شفیق نے سینچری کی، شاداب خان نے پہلی بار دس وکٹیں لیں۔ دوسری اننگز میں عباس نے بہت اچھے سپیل پھینکے۔آئر لینڈ کی مینز ٹیم بھرپور کوشش کرے گی کہ وہی تاریخ رقم کرے جو ان کی ویمن ٹیم نے کئی سال پہلے کی تھی۔ پاکستان کو یہ کوشش کرنا ہو گی کہ تاریخ خود کو دہرانے نہ پائے۔

Comments

comments

Leave a Comment