کرکٹر نہ ہوتا تو ریٹائرڈ فوجی ہوتا ‘‘ عمران خان نے جب یہ الفاظ کہے تو وہاں پر موجود پاک فوج کے جوانوں کی کیا حالت تھی؟۔۔۔۔

راولپنڈی : معروف صحافی عامر متین کا کہنا تھا کہ سول ملٹری کے درمیان جو ایک فاصلہ تھا وہ ختم ہو گیا ہے اور یہ بہت

خوش آئند بات ہے کہ پاک فوج اور سول حکومت واقعی ایک پیچ پر ہیں۔عامر متین نے وزیراعظم عمران خان کی یوم دفاع پر کی گئی تقریب پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان بڑی اچھی تقریر کر لیتے ہیں آج بھی انہوں نے فی البدیہ تقریر بڑی اچھی کی اس میں فوج کا ولولہ بڑھایا ملک کو بھی اٹھایا ، لیکن میرا خیا ل ہے کہ ایسی تقریریں لکھی ہونی چاہئیں کیونکہ اس قسم کی بہت سنجیدہ تقریبات ہوتی ہیں۔اور ان تقاریب میں نپی تلی باتیں کرنی ہوتی ہیں اس لیے اچھا ہوتا اگر عمران خان کے پاس لکھی ہوئی تقریر ہوتی تا کہ ایک دو لائن کی بھی غلطی نہ ہونے کی گنجائش نہ ہو۔ویسے عمران خان نے بہت اچھی تقریر کی۔واضح رہے عمران خان کا یوم شہدا کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اگر میں کرکٹر نہ ہوتا تو ریٹائرڈ فوجی ہوتا۔انہوں نے کہا کہ ہ اگر میں

کھلاڑی نہ بنتا تو آج ایک ریٹائرڈ فوجی ہوتا ‘12سال کی عمر میں 1965کی جنگ میں حصہ لینے کے لئے والد صاحب کی بندوق لیکر زمان پارک میں گیا تو مجھے کزنز نے چھوٹا کہہ کر واپس بھجوا دیا تھا ۔جی ایچ کیو راولپنڈی میں یوم دفاع و شہداء کی تقریب سے خطاب کرے دوران وزیراعظمعمران خان نے اپنے بچپن کی یادیں تازہ کرتے ہوئے بتایا کہ 6 ستمبر 1965 کو 12 سال کا تھا، 6 ستمبر کی رات کو فائرنگ کی آوازیں کبھی نہیں بھول سکتا اور میرے کزن نے بھی مورچہ بنایا تھا، میں بھی اپنے کزن کیساتھ گارڈ ڈیوٹی دینے پہنچ گیا تھا۔ میرے کزن نے مجھے چھوٹی عمر کی وجہ سے واپس بھیج دیا تو بڑا دکھ ہوا۔ 6 ستمبر والا جذبہ کبھی نہیں دیکھا، اگر کرکٹ کی طرف نہ جاتا تو شائد آج میں بھی ریٹائرڈ فوجی ہوتا۔اور ان الفاظ نے وہاں پر موجود فوجی جوانوں کا حوصلہ بڑھا دیا ۔

Comments

comments

Leave a Comment