کیا لیجنڈ کرکٹر وسیم اکرم اپنی کپتانی کے دنوں میں جیتنے کے لیے جادو ٹونے کا سہارا بھی لیتے تھے ؟ سوئنگ کے سلطان کے حوالے سے ایک ناقابل یقین واقعہ ملاحظہ کیجیے

لاہور (ویب ڈیسک )آپ دل نہیں چھوڑیں‘‘۔وسیم اکرم نے کپتان کو حوصلہ دیا۔’’ہماری بیٹنگ بہت اچھی رہی ہے،اگر باؤلنگ اور فیلڈنگ میں بھی کامیاب رہے تو یہ فتح ہماری ہو گی‘‘۔اس روز وسیم اکرم نے پہلی بار اپنا بھرم قائم رکھنے کے لئے بہت سی آیات قرآنی پڑھ ڈالی تھیں اور ساری اننگ کے دوران وہ کچھ نہ کچھ پڑھتا ہی رہا۔

خاص طور پر باؤلنگ کرانے سے قبل جب وہ زیر لب کچھ پڑھتا تو کلوز کیمرے اس کی ہر حرکت کو محفوظ کرتے رہے۔اس روز یہ دھوم بھی مچ گئی کہ وسیم اکرم ایک جادو گر ہے جو کوئی منتر پڑھ کر باؤلنگ کراتا ہے۔اس روز اس نے ڈربی شائر کے پرخچے اڑا دیے تھے۔اتفاق سے اس روز موسم بھی بہت اچھا تھا۔لہٰذا وسیم نے ریورس سوئنگ کو خوب آزمایا اور49گیندوں پر صرف11رنز دے کر چھ کھلاڑیوں اور آؤٹ کر دیے تھے جس سے لنکاشائر با آسانی میچ جیت گئی۔ مزے کی بات یہ ہے کہ ڈربی شائر والے وسیم اکرم کی ریورس سوئنگ پر بے حد حیرانی کا اظہار کرتے رہے اور بار بار امپائر کو بال کا معائنہ کرنے کے لیے کہتے بلکہ انہوں نے بال کے معائنہ کی بھی درخواست دی اور وسیم پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگایا۔میچ کے دوران ایمپائر ہولڈراور جارج شارپ بار بار گیند دیکھتے اور خود بھی وسیم کی باؤلنگ کا لطف اٹھاتے رہے۔لیکن بدقسمتی سے جب فائنل مقابلہ ہوا تو دونوں طرف کے کھلاڑیوں میں معاندانہ روش کھل کر سامنے آگئی۔لنکا شائر والے اس بات پر خفا تھے کہ انہوں نے وسیم اکرم پر بال ٹمپرنگ کا الزام کیوں لگایا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ فائنل سے ایک روز پہلے ہی دونوں طرف آگ بھڑکنے لگی اور جملے بازیاں اور طنزیہ نعرے عام ہو گئے۔قتل کی دھمکی…یہ دوپہر کا وقت تھا۔ جب وسیم اکرم اپنے چند ساتھیوں کے ساتھ لنچ کرنے کے لئے ہوٹل میں گیا ہوا تھا۔

اس وقت ڈربی شائر کے کھلاڑی بھی لنچ کررہے تھے۔اتفاق سے وسیم اکرم ڈربی شائر کے کرس ایڈم کی میز کے پاس سے گزرنے لگا تو اس نے وسیم اکرم پر پھبتی کسی تو وسیم اکرم رک کر اسے گھورنے لگا جس پر کرس ایڈم پھول گیا اور کہنے لگا’’دیکھو!اب اگرتم نے ہمارے ساتھ بے ایمانی کی تو ہم تم کو نہیں چھوڑیں گے‘‘۔کرس ایڈم وسیم اکرم کی ریورس سوئنگ تکنیک کو بے ایمانی کہہ رہا تھا۔وسیم اکرم کو اس کی بات پر غصہ آگیا۔ وہ اس کی میز کے قریب گیا اور کہنے لگا۔’’تم کیا کرلوگے‘‘۔کرس ایڈم اس وقت رول پر مکھن لگارہا تھا، اس نے ہاتھ میں چھری پکڑی ہوئی تھی۔بھپر کر بولا’’میں تمہارا پیٹ پھاڑ دوں گا،تمہیں قتل کر دوں گا‘‘۔تمہاری یہ جرات ‘‘وسیم اکرم اس کی طرف بڑھا’’لو ماروچھری‘‘۔کرس ایڈم کے ساتھی بھی اٹھ کھڑے ہوئے۔انہوں نے اس کے ہاتھ سے چھری چھین لی مگر وہ ان کے ہاتھ سے نکل کر وسیم اکرم کی طرف بڑھا اور پھر خود ہی رک گیا۔

’’آؤ آگے آؤ،میں نے تمہیں اٹھا کر کھڑکی سے باہر نہ پھینک دیا تو کہنا‘‘۔یہ کہہ کر وسیم اکرم اس کو مارنے کے لیے آگے بڑھا تو کرس کے ساتھی اسے پکڑ کر تیزی سے نیچے لے گئے۔یہ وسیم اکرم کے ساتھ پیش آنے والا پہلا انوکھا واقعہ تھا جب ایک کھلاڑی نے اس کو باؤلنگ سے زچ ہو کر قتل کرنے کی دھمکی دی تھی۔ یہ کوئی مذاق نہیں تھا۔اگر اس وقت کرس کے ساتھی اسے پکڑ کر نہ لے جاتے

تو وسیم اکرم یقیناً اس کی پٹائی کر دیتا اور یوں کرکٹ کی دنیا میں ایک نئی روایت کا آغاز ہو جاتا۔ادھر کرس ایڈم کوبھی احساس ہو گیا تھا کہ اس نے وسیم اکرم کو چھیڑ کر بہت بڑی حماقت کی ہے اور وہ یقیناً اس سے بدلہ لے گا۔وہ جب اپنی اننگ کے دوران بیٹنگ کرنے آیا تو گھبرایا ہوا تھا۔ اگرچہ وہ مکمل حفاظتی سازو سامان کے ساتھ آیا تھا۔مگر ایک خوف سا اس کے چہرے سے مترحش ہو رہا تھا حالانکہ وسیم اکرم کے چہرے پر سکون ہی سکون تھا۔وہ جب اسے باؤلنگ کرانے آیا تو اس نے ایک تیز رفتار یار کر پھینکی مگر اتفاق سے بال یار کرکے بجائے فل ٹاس بن گئی۔خوفزدہ کرس ایڈم جھٹ سے نیچے بیٹھ گیا جس کے نتیجے میں تیز رفتار بال نے اس کے کندھے کا جوڑ ہلا دیا اور وہ گر کر تڑپنے لگا۔وسیم اکرم سیدھا اس کے پاس گیا اور معذرت کی۔ اس پر کرس ایڈم غصے سے چلانے لگا۔’تم نے جان بوجھ کر بیمر مارا ہے۔تم نے بدلہ لیا ہے‘‘۔میں نے بیمر نہیں مارا اور نہ ہی آج تک یہ کام کیا ہے۔بہرحال غلطی تمہاری ہے کہ تم ایک دم نیچے بیٹھ گئے۔حالانکہ یہ بال باؤلنسر بھی نہیں تھی‘‘۔

وسیم اکرم نے دلیل دی مگر کرس ایڈم اور اس کے ساتھیوں نے مشہور کر دیا کہ وسیم اکرم نے بدلہ چکانے کے لیے بیمر مارا ہے۔وسیم اکرم کی تباہ کن باؤلنگ کے باوجوج ڈربی شائر فائنل جیت گئی۔ لنکا شائر کے کپتان نیل فیئر برادر نے اس شکست کے بعد کپتانی سے استعفیٰ دے دیا اور کہا:’کپتانی ایک پہاڑ ہے۔میں اسے نہیں اٹھا سکتا۔ کپتانی کے باعث میری بیٹنگ فلاپ ہو گئی تھی لہٰذا میں دوبارہ سے بیٹنگ پر ہی توجہ دینا چاہوں گا۔وسیم اکرم نیل فیئر برادر کے حالات کو سمجھ رہا تھا۔ کیونکہ اس کے اور وسیم اکرم کے حالات بہت ملتے تھے۔ نیل فیئر برادر کو تو لنکا شائر کے تمام ممبران کی حمایت و مدد حاصل تھی کہ ان کا اپنا کھیل بری طرح خراب ہو گیا تھا۔ لہٰذا وسیم اکرم نے نیل فیئر برادر کے فیصلے کو احسن قرار دیا۔(دنیائے کرکٹ میں تہلکہ مچانے والے بائیں بازو کے باؤلروسیم اکرم نے تاریخ ساز کرکٹ کھیل کر اسے خیرباد کہا مگرکرکٹ کے میدان سے اپنی وابستگی پھریوں برقرار رکھی کہ آج وہ ٹی وی سکرین اور مائیک کے شہہ سوار ہیں۔وسیم اکرم نے سٹریٹ فائٹر کی حیثیت میں لاہور کی ایک گلی سے کرکٹ کا آغاز کیا تو یہ ان کی غربت کا زمانہ تھا ۔انہوں نے اپنے جنون کی طاقت سے کرکٹ میں اپنا لوہا منوایااور اپنے ماضی کو کہیں بہت دور چھوڑ آئے۔انہوں نے کرکٹ میں عزت بھی کمائی اور بدنامی بھی لیکن دنیائے کرکٹ میں انکی تابناکی کا ستارہ تاحال جلوہ گر ہے۔روزنامہ پاکستان اس فسوں کار کرکٹر کی ابتدائی اور مشقت آمیز زندگی کی ان کہی داستان کو یہاں پیش کررہا ہے۔)

Comments

comments

Leave a Comment