ہمیں چار میچوں میں شکست اس و جہ سے ہوئی کیونکہ ہم لوگ۔۔۔ ملتان سلطانز کے کھلاڑی عمران طاہر نے ایسی و جہ بتا دی کہ سن کر نجم سیٹھی بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائیں گے

دبئی ملتان سلطانز کے لیگ سپنر عمران طاہر نے اپنی ٹیم کی آخری 4 میچز میں شکست کی وجہ کو مسلسل کرکٹ اور تھکاوٹ کو قرار دیدیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق ملتان سلطانز کی نمائندگی کرنے والے جنوبی افریقا کے 38 سالہ لیگ سپنر عمران طاہر نے چاہنے والوں سے دعاو¿ں کی اپیل کی ہے۔عمران طاہر کہتے ہیں ہونا تو یہ چاہیے کہ جو ٹیم اچھا کھیلے وہ ”پلے آف“ تک جائے لیکن وہ سمجھتے ہیں کہ ان کی ٹیم کو ایک موقع ضرور ملنا چاہیے۔لیگ سپنر نے کہا کہ وہ مانتے ہیں کہ آخری چار میچوں میں ان کی ٹیم ہار گئی اور ان میچوں میں وہ جیسا کرنا چاہ رہے تھے نہیں کر سکے لیکن اس کی ایک وجہ تھکاوٹ بھی تھی کیوں کہ ملتان سلطانز کو آخری پانچ میچ8 دن میں کھیلنا پڑے جس کے باعث کھلاڑی تھکاوٹ کا شکار ہو گئے۔جنوبی افریقا سے تعلق رکھنے والے عمران طاہر مزید کہتے ہیں کہ اس بارے میں عذر پیش نہیں کیا سکتا کیوں کہ وہ پیشہ ورانہ کرکڑ ہیں۔پاکستان سپر لیگ کے حوالے سے عمران طاہر نے کہا کہ لیگ کرانے کے لیے پی سی بی بجا طور پر مبارکباد کی مستحق ہے۔عمران طاہر نے کہا کہ لیگ کا معیار انتہائی شاندار ہے جہاں ایک دوسرے سے آگے نکلنے کے لئے کھلاڑیوں کے درمیان رسہ کشی چلتی رہتی ہے، کھلاڑی اپنے طور پر اچھا کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے لیکن نتیجہ اس کے ہاتھ میں نہیں ہوتا۔وکٹ لینے کے بعد لمبی دوڑ لگانے کے حوالے سے عمران طاہر نے کہا کہ ایسا وہ پہلی بار نہیں کر رہے، جب وہ فرسٹ کلاس کرکٹ کھیلتے تھے، اس وقت سے ان کا یہی انداز ہے۔ٹیسٹ لیگ سپنر نے مزید بتایا کہ انہیں یہاں تک پہنچنے میں بہت وقت لگ گیا اور وہ وکٹ لے کر جو کرتے ہیں ان کی خوشی کا ایک انداز ہے۔

خیال رہے عمران طاہر نے پی ایس ایل تھری کی پہلی ہیٹ ٹرک کرنے کا بھی اعزاز حاصل کر چکے ہیں اور اب تک 10میچوں میں 18.38کی اوسط سے 13 وکٹیں حاصل کر کے ٹورنامنٹ کے بہترین باﺅ لر بھی ہیں۔
دوسری جانب پاکستان سپر لیگ میں پہلی بار شرکت کرنے چھٹی ٹیم ملتان سلطانز نے سیزن 2018 میں اپنے تمام 10 لیگ میچ مکمل کر لئے ہیں جس میں 4 فتوحات، 5 ناکامیوں اور ایک بارش سے متاثرہ میچ کے ساتھ اس کے 9 پوائنٹس ہیں۔
ٹورنامنٹ کی ابتدائی 4 ٹیموں میں شامل ہونے کے لئے ملتان سلطانز کی نظریں اب دوسری ٹیموں کے نتائج پر جمی ہوئی ہیں۔

Comments

comments

Leave a Comment