یو ایس اوپن کے فائنل میں جھگڑا : سرینا ولیمز کو آخر غصہ کس بات پر آیا ؟ بی بی سی کی خصوصی رپورٹ

واشنگٹن: گرینڈ سلام اپنے نام کرنے والی ٹرافی سے چند قدم کے فاصلے پر کھڑی نومی اوساکا نے رونا شروع کر دیا تھا۔20 سالہ جاپانی نے اپنے بچپن کی پسندیدہ کھلاڑی سرینا ولیمز کو یو ایس اوپن کے فائنل میں شکست دی تھی۔ سرینا ولیمز کی نظریں اپنے کیریئر کے 24ویں اور بچے کی پیدائش کےبعد پہلے گرینڈ سلام پر تھیں۔اوساکا کسی اہم ٹونامنٹ میں فتح حاصل کرنے والی پہلی جاپانی خاتون ہیں،

انھوں نے وہی سیاہ رنگ کا وزر پہن رکھا تھا جو اس میچ کے دوران بھی پہنا ہوا تھا، اپنے جذبات چھپنانے کے لیے اسے انھوں نے اپنے چہرے سے نیچے سرکا دیا۔یہ ان کے کیریئر کا خوش گوار ترین لمحہ ہونا چاہیے تھے اور بظاہر یہ ان کے آنسو خوشی کے آنسو نہیں تھے۔آرتھر ایش سٹیڈیم میں آوازیں کسیں گئی لیکن ان کا نشانہ اوساکا نہیں بلکہ ناانصافی کا وہ احساس تھا جسے 24000 کے مجمعے میں سے بیشتر افراد نے سرینا ولیمز کے خلاف محسوس کیا تھا۔36 سالہ سیرینا ولیمز کا کہنا تھا کہ ‘مجھے ایک موقع پر برا محسوس ہوا کیونکہ میں رو رہی ہوں اور وہ بھی رو رہی ہے۔ آپ جانتے ہیں، وہ جیت چکی ہے۔’سابق ومبلڈن چیمپیئن پیٹ کیس نے بی بی سی ریڈیو کو بتایا کہ ‘یہ آج تک کا عجیب ترین میچ اور تقریب تھی جو میں نے دیکھی۔’لیکن معاملہ یہاں تک کیسے پہنچا؟سرینا ولیمز جیسے ہی لاکر روم سے باہر آئیں اور میدان میں نصب بڑی سکرین پر نمودار ہوئی تو ماحول کچھ ایسا تھا کہ ان سے بہت زیادہ امیدیں وابستہ تھیں۔سرینا ایک عالمی سپرسٹار ہوسکتی ہیں لیکن اس سے زیادہ وہ ایک امریکن آئیڈل ہیں: ٹی وی اشتہارات میں آتی ہیں اور نیویارک کے مشہور ففتھ ایونیو پر ان کے تشہیری بل بورڈ نصب ہیں۔شہر میں

کسی کو بھی بتائیں کہ آپ یو ایس اوپن کی کوریج کے لیے آئے ہیں تو گفتگو کا موضوع سرینا ولیمز رہے گا۔آپ نے سرینا کو دیکھا، واہ، عمدہ ہے۔ مجھے ٹینس کچھ خاص پسند نہیں لیکن مجھے سرینا سے پیار ہے۔’لوگ ان سے محبت کرتے ہیں۔جوں جوں میچ آگے بڑھ رہا تھا نیویارک کے مجمعے کا موڈ بھی بدل رہا تھا۔اشارہ یا کوئی اشارہ نہیں؟پہلی بار سرگوشیاں اس وقت سنی گئیں جب سرینا ولیمز کو چیئر امپائر کارلوس راموس نے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی پر خبردار کیا کہ ان کے کوچ پیٹرک مورٹوگلو نے سٹینڈز میں سے انھیں اشارے کیے ہیں جس کی اجازت نہیں ہےسرینا ولیمز نے مشتعل ہوکر پرتگالی زبان میں کہا تھا کہ ‘کوئی کوڈ نہیں ہے۔ میں بے ایمانی سے جیتنے کے بجائے ہارنا چاہوں گی۔’میچ کے بعد مورٹوگلو نے ایک ٹی وی انٹریو میں تسلیم کیا وہ کوچنگ کر رہے تھے لیکن ان کا کہنا تھا کہ ‘میرا نہیں خیال انھوں نے مجھے دیکھا تھا، ہر کوئی ایسا کرتا ہے۔’اگر ان کے درمیان کوئی اشارے نہیں ہوئے جیسا کہ سرینا ولیمز نے کہا اور اگر انھوں نے کوئی سگنل نہیں دیکھا تو انھیں مشتعل ہونے کا حق ہے، لیکن یہ اشتعال وہ اپنے کوچ پر ظاہر کر سکتی ہیں ضابطہ اخلاق پر نہیں۔یو ایس اوپن کی منتظم یونائیٹڈ سٹیٹس ٹینس ایسوسی ایشن نے بھی بعد ازاں ایک بیان میں امپائر راموس کی حمایت کا اظہار کیا تھا۔اگرچہ سرینا ولیمز کہتی ہیں کہ

وہ اس بات کی ‘وضاحت’ کرنا چاہتی ہیں کہ مورٹوگلو کیا سوچ یا کہہ رہے تھے لیکن انھیں سرینا کے غصے کا الزام نہیں دیا جا سکتا۔اس کا ذمہ دار امپائر یا سرینا ولیمز؟امپائر راموس نے جب انھیں ایک اور خلاف ورزی کے بارے میں آگاہ کیا تو وہ پھٹ پڑیں اور اپنا ریکٹ زمین پر دے مارا۔انھوں نے امپائر سے کہا کہ ‘وہ کوچنگ نہیں لے رہی۔ آپ کو اعلان کرنا ہوگا کہ میں نے بے ایمانی نہیں کی۔ آپ کو مجھ سے معذرت کرنا ہوگی۔’میں نے زندگی میں کبھی بے ایمانی نہیں کی۔ میری ایک بیٹی ہے اور وہ ہی کروں گی جو اس کے لیے صحیح ہے۔ میں نے کبھی بے ایمانی نہیں کی۔’اس کے بعد راموس کے ساتھ وہی برتاؤ کیا گیا جو ایک ولن کے لیے مخصوص ہوتا ہے۔صورتحال میں مزید خرابی:اس کے بعد ایک موقع پر سرینا ولیمز نے کہا کہ ‘آپ نے میرا پوائنٹ چرایا ہے۔ آپ چور ہو۔’اس کے بعد سرینا ولیمز پر بدزبانی کرنے پر تیسری بار خلاف وزری عائد کی گئی۔سرینا ولیمز نے راموس کے خلاف زبانی حملے جاری رکھے اور ٹورنامنٹ کے ریفری کو طلب کر لیا تو افراتفری کی صورتحال پیدا ہوگئی۔دوسری جانب کراؤڈ کی جانب سے بھی نعرے بازی جاری رہی۔تاہم اوساکا نے اپنے اعصاب قابو میں رکھے۔

ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے کچھ نہیں سنا کیونکہ انھوں نے منہ موڑ لیا تھا۔کیا امپائر صحیح تھے؟تینوں موقع پر راموس نے سرینا کو قانون کے مطابق خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا تھا۔ آئی ٹی ایف گرینڈ سلام کے قواعد کے مطابق آپ کسی آفیشل، سپانسر یا تماشائی کے خلاف بدزنابی نہیں کرسکتے، اپنے ریکٹ سمیت کھیل کے استعمال کی اشیا کو نقصان نہیں پہنچا سکتے اور میچ کے دوران اپنے کوچ سے کوچنگ نہیں لے سکتے۔آوازیں نہ کسیں’یوایس اوپن کی فاتح اوساکا کہتی ہیں کہ ‘جب میں نے نیٹ میں سرینا کو گلے لگایا تو مجھے ایسا لگا میں چھوٹی بچی ہوں۔’ ان کا کہنا تھا کہ انھوں نے تیسری جماعت میں سرینا ولیمز پر ایک مضمون لکھا تھا۔اس کے باوجود ایسا لگ رہا تھا کہ یہ خاص موقع ایسا نہیں ہے جیسا ہونا چاہیے تھا۔میچ کے اختتام اور انعام تقسیم کرنے کی تقریب کے دوران بھی آوازیں کسی جا رہی تھیں۔اوساکا نے رونا شروع کر دیا۔ یہ ایک دل خراش منظر تھا۔اس وقت ان سے عمر میں 16 سال بڑی سرینا ولیمز نے ان مداخلت کی اور کہا ‘اور آوازیں نہ کسی جائیں۔ مبارک ہو، نومی۔ اب آوازیں نہ کسی جائیں۔’تماشائیوں نے بھی اس کا ردعمل ظاہر کیا اور نومی اوساکا نے مائیک تھام لیا۔انھوں نے کہا ‘میں جانتی ہوں ہر کوئی ان کے لیے پرجوش تھا اور مجھے افسوس ہے کہ اس کا اختتام ایسے ہوا۔’کورٹ کے باہر عاجزی اور معصومانہ انداز لیکن کورٹ میں دھواں دار ہٹنگ اور مضبوطی سے ظاہر ہے کہ مستقبل میں گرینڈ سلام میں مزید کامیابیاں نومی اوساکا کی منتظر ہیں۔

Comments

comments

Leave a Comment